آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 81

روحانی خزائن جلد ۴ M مباحثہ لدھیانہ اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ ﴿۹﴾ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ لا یعنی ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان ہے اور پھر فرماتا ہے مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ ، یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الہی قادر ہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر ان کا کام ہے جو وحی الہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمی مدد دیئے گئے ہوں ۔ سوایسے لوگوں کیلئے جو استخراج و استنباط معارف قرآنی پر بعلت غیر ملہم ہونے کے قادر نہیں ہو سکتے یہی سیدھی راہ ہے کہ وہ بغیر قصد استخراج و استنباط قرآن کے ان تمام تعلیمات کو جوسنن متوارثہ متعاملہ کے ذریعہ سے ملی ہیں بلا تامل و توقف قبول کر لیں ۔ اور جو لوگ وحی ولایت عظمی کی روشنی سے منور ہیں اور الا المطهرون کے گروہ میں داخل ہیں ان سے بلا شبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً دقائق مخفیہ قرآن کے ان پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات ان پر ثابت کر دیتا ہے کہ کوئی زائد تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز نہیں دی۔ بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات و اشارات قرآن کریم کی تفصیل ہے سو اس معرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم ان پر کھل جاتا ہے اور نیز ان آیات بینات کی سچائی ان پر روشن ہو جاتی ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اگر چہ علماء ظاہر بھی ایک قبض کی حالت کے ساتھ ان آیات پر ایمان لاتے ہیں تا ان کی تکذیب لازم نہ آوے۔ لیکن وہ کامل یقین اور سکینت اور اطمینان جو مہم کامل کو بعد معائنہ مطابقت و موافقت احادیث صحیحہ اور قرآن کریم اور بعد معلوم کرنے اس احاطہ نام کے جو در حقیقت قرآن کو تمام احادیث پر ہے ملتی ہے وہ علماء ظاہر کو کسی طرح نہیں مل سکتی ۔ بلکہ بعض تو قرآن کریم کو ناقص و نا تمام خیال کر بیٹھتے ہیں اور جن غیر محدودصداقتوں اور حقائق اور معارف پر قرآن کریم کے دائمی اور تمام تر اعجاز کی بنیاد ہے اس سے وہ منکر ہیں اور نہ صرف منکر بلکہ اپنے انکار کی وجہ سے ان تمام آیات بینات کو جھٹلاتے ہیں جن میں صاف صاف اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے کہ قرآن جمیع تعلیمات دینیہ کا جامع ہے !!! اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے سنن متوارثہ متعاملہ کو اپنے پر چہ نمبر پنجم و چہارم میں ایک علیحدہ حصہ بتصریح بیان کر دیا ہے اور میرے نمبر پنجم کے پڑھنے سے ظاہر ہوگا کہ میں نے ان سنن متوارثہ متعاملہ کو ایک ہی درجہ یقین پر قرار نہیں دیا بلکہ میں ان کے مراتب متفاوتہ کا قائل ہوں جیسا کہ ا النحل : ۲۹۰ الانعام: ۳۹