آریہ دھرم — Page 54
روحانی خزائن جلد ۱۰ ولد آریہ دھرم ۴۸ سوال چو تھا۔ اب دیکھئے کہ لفظ زنا کس موقعہ کے لئے موزوں ہے رسول خدا حضرت محمد صاحب کا اپنے متبنی بیٹے کی بہو مسماۃ زینب کی خواہش کرنا اور اُس کے معقول عذر پر یہ بہانہ کرنا کہ خدا تعالیٰ نے عرش پر اپنی زبان مبارک سے میرا اور تیرا نکاح پڑھ دیا ہے ۔ الجواب اے لالہ صاحبان آپ لوگوں نے ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تمام پر ہیز گاروں اور پاک دلوں کے سردار ہیں زنا کی تہمت لگائی ۔ اگر چہ تعزیرات ہند دفعہ ۲۹۸ کی رو سے ایسے شخصوں کی توہین کے مقدمہ میں جو ایک عظیم الشان پیشوا کی نسبت کی گئی ہے سزا تو یہ ہے کہ کم سے کم عدالت سے ڈاڑھی اور موچھ منڈوا کر برس برس کی قید ہو اور پیچھے کھترانیوں اور مصرانیوں کو بجز نیوگ کرانے کے اور کوئی صورت کارروائی کے لئے باقی نہ رہے۔ لیکن بالفعل ہم اس امید سے برداشت کرتے ہیں کہ تا ۴۸ بقیہ اور کیا وجہ کہ نکاح کی نوعیت تمام معاہدوں سے مختلف ہے۔ عیسیٰ نے زنا کی شرط سے حاشیہ طلاق کی اجازت دی مگر آخراجازت تو دیدی نکاح ملاپ کے لئے ہے اس لئے نہیں کہ هم دائمی تردد اور نزاع کے باعث سے پریشان خاطر رہیں خلاصہ تقریر جان ملٹن ۔ اگر مرد کسی دوسری جگہ چلا جائے اور اپنے گھر پر حاضر نہ ہو تو آریوں کی عورتوں کو چاہئے کہ میعاد مقررہ کے بعد نیوگ یعنی کسی دوسرے سے ہم بستر ہوکر اولاد جن لیں کسی کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں اور وید آگیا موافق بیان پنڈت دیانند کے یہ ہے و واست استری جو و واہت پتی دھرم کے اڑ تھر پردیش میں گیا ہو تو آٹھ برش ۔ وڈیا اور کیرتی کے لئے گیا ہو تو چھ ۔ اور دھن آدی کامٹنا کے لئے گیا ہو تو تین برش تک باٹ دیکھ کے پنچات نیوگ کر کے سنتان او پتی کر لے۔ جب وداہت پتی آوے تب نیوکٹ پتی چھوٹ جاوے۔ विवाहित स्त्री जो विवाहित पति धर्म के अर्थ परदेश में गया हो तो आठ वर्ष विद्या और कीर्ति के लिये गया हो तो छः, और धनादि कामना के लिए गया हो तो तीन वर्ष तक बाट देख के पश्चात नियोग कर के सन्तानोत्पत्ति कर ले जब विवाहित पति आवे तब नयुक्त पति छूट जावे। सत्यार्थ۔ १२०