آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 550

آریہ دھرم — Page 41

روحانی خزائن جلد ۱۰ لدا آریہ دھرم شخص سے ہم بستر ہو سکتی ہے پھر طلاق مسلمانوں سے کچھ خاص بھی نہیں بلکہ ہر یک قوم میں بشرطیکہ دیوث نہ ہوں نکاح کا معاہدہ صرف عورت کی نیک چلنی تک ہی محدود ہوتا ہے اور اگر عورت بد چلن ہو جائے تو ہر یک قوم کے غیرتمند کو خواہ ہندو ہو خواہ عیسائی ہو بدچلن عورت سے علیحدہ ہونے کی ضرورت پڑتی ہے مثلاً ایک آریہ کی عورت نے ایک چوہڑے سے ناجائز تعلق پیدا کر لیا ہے چنانچہ بارہا اس نا پاک کام میں پکڑی بھی گئی ۔ اب آپ ہی فتوی دو کہ اس آریہ کو کیا کرنا چاہئے کیا نکاح کا معاہدہ ٹوٹ گیا یا اب تک باقی ہے کیا یہ اچھا ہے کہ وہ مسلمانوں کی ۳۶ طرح اُس عورت کو طلاق دیدے یا یہ کہ ایک دیوث بن کر اُس آشنا پر راضی رہے یا مثلاً ایک عورت علاوہ بدکار ہونے کے خاوند کے قتل کرنے کے فکر میں ہے تو کیا یہ جائز ہے کہ اُس کا خاوند ایک مدت تک اس کی بدکاری کو دیکھتا ر ہے اور اُس پر خوش رہے اور آخر اس فاسقہ کے ہاتھ سے قتل ہو غرض یہ مثال نہایت درست ہے کہ گندی عورت گندے عضو کی طرح ہے اور اُس کا کاٹ کر پھینکنا اسی قانون کے رو سے ضروری پڑا ہوا ہے جس قانون کے رو سے ایسے عضو کاٹے جاتے ہیں اور چونکہ ایسی عورتوں کو اپنے پاس سے دفع کرنا واقعی طور پر ایک پسندیدہ بات اور انسانی غیرت کے مطابق ہے اس لئے کوئی مسلمان اس کارروائی کو چھپے چھپے ہرگز نہیں کرتا مگر نیوگ چھپ کر کیا جاتا ہے کیونکہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ بُرا کام ہے۔ جب رام دئی یہ سب باتیں کہہ چکی تو پنڈت سخت نادم ہو کر لا جواب ہو گیا اور کہا کہ اب مجھے سمجھ آ گیا کہ نیوگ حقیقت میں خباثت کا ہی کام ہے تبھی تو چھپ کر کیا جاتا ہے کیونکہ انسانی فطرت اور انسانی کانشنس اس کو مردانہ غیرت کے بر خلاف سمجھتے ہیں پس نیوگ اور طلاق کو ایک ہی رنگ میں سمجھنا ٹھیک نہیں۔ یہ بات فی الحقیقت سچی ہے کہ نکاح مرد اور عورت میں ایک عہد ہے اور وہ بد عہدی ۔ اور وہ بد عہدی کے بعد قائم نہیں رہ سکتا اور جو شخص اپنی عورت کو بدکار پا کر پھر بھی اس سے قطع تعلق نہیں کرتا وہ حقیقت میں دیوث اور بے غیرت ہی ہے اور حقیقت میں ایسی عورت سے قطع تعلق نہ کرنا اس مثال کے نیچے داخل ہے کہ ایک شخص ایسے عضو کو بھی اپنے وجود کا ٹکڑا ہی سمجھے جو سر گل گیا اور جو بد بو سے دماغ کو پریشان کرتا ہے اور اپنی عفونت سے چنگے بھلے وجود کو دکھ