آریہ دھرم — Page 30
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۰ آریہ دھرم وجود میں سے کاٹ دیا اور بعد طلاق اور تیاگ کے فلاں شخص کے نکاح میں وہ آ گئی لیکن ایک آریہ کے لئے یہ اقرار میر نے سے کچھ کم نہیں کہ آج ہم نے اولاد کے لئے اپنی فلاں پاکدامن اور منکوحہ عورت کو فلاں شخص سے ہم بستر کیا ہے پس نیوگ میں اور طلاق میں یہ فرق ہے کہ نیوگ میں تو ایک بے غیرت انسان اپنی پاکدامن اور بے لوث اور منکوحہ عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا کر دیوث کہلاتا ہے اور طلاق کی ضرورت کے وقت ایک باغیرت مرد ایک نا پاک طبع عورت سے قطع تعلق کر کے دیوتی کے الزام ۔ کر کے دیوتی کے الزام سے اپنے تئیں بری کر لیتا ہے۔ بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ نیوگ کی رسم ایسی نہیں ہے جو پہلے تھی اور اب ترک کی گئی ہے بلکہ برابر آریوں میں پوشیدہ طور پر ہو رہی ہے اور ضرورتوں کے وقت ہر یک ادنی ۲۶ اعلیٰ اس رسم کا پابند معلوم ہوتا ہے ابھی ہم نے ایک بڑے نامی رئیس کا حال سنا ہے جو اُس نے اپنی پیاری اور جوان بیوی سے اولاد کی خواہش سے نیوگ کرایا ہے اسی طرح ہر یک طرف سے یہ خبریں پہنچ رہی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ اب وید کی اس تعلیم پر پورے پورے طور پر کار بند ہونا چاہتے ہیں ۔ مگر چونکہ انسانی کانشنس اس گندہ کام کو قبول نہیں کرتا۔ اس لئے پوشیدہ طور پر یہ کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں عجیب باتیں سنی جاتی ہیں حد انوٹ ۔ جس حالت میں نیوگ وید کا حکم ہے اور بقول آریہ پنڈتوں کے وید کے احکام قابل منسوخی نہیں تو پھر رسم نیوگ ترک کیونکر ہو سکتی ہے کیا کسی زمانہ میں وید منسوخ ہو سکتا ہے ۔ منہ یہ ایک دھوکہ کی بات ہے کہ نیوگ کرانے کے وقت ہمیشہ مرد پر ہی الزام دیا جاتا ہے کہ وہ نا قابل حاشیہ اولاد ہے اور اسی خیال سے عورت کو دوسرے سے ہم بستر کراتے ہیں۔ گو بھی کبھی یہ بھی ممکن ہو کہ مرد بانجھ کی طرح ہو یا اُس کی منی میں کیڑے نہ ہوں یا اُس کی منی پتلی ہو یا چربی سے منافذ بند ہو گئے ہوں اور اِس وجہ سے اولا د نہ ہو سکے مگر طبی تحقیقات سے یہ زیادہ تر ثابت ہے کہ اولاد نہ ہونے کی حالت میں اکثر عورتوں کے ہی رحم وغیرہ میں قصور ہوتا ہے اس لئے ہم آریوں کو نیک صلاح دیتے ہیں کہ جھٹ پٹ اپنی عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر نہ کرا دیا کریں پہلے ڈاکٹر کو بلا کر عورت کے رحم اور دوسری اندرونی بناوٹ کا حال بذریعہ آلات دریافت کرالیں ایسا نہ ہو کہ در اصل عورت کا ہی قصور ہو اور پھر وہ ناحق ساری عمر بدکاری کراتی رہے اور آخر بوجہ عظیمہ ہونے کے ناکام رہے اور کوئی بچے بچہ نہ ہو یہ صلاح نیک ہے ضرور اس پر عمل کریں اگر وید نے نہیں بیان کیا تو یہ اس کی غلطی ہے۔ مرد باید که گیر داندر گوش در نبشتست پند بر دیواری منه ے یہ سعدی کا شعر ہے۔ ایڈیشن اول میں سہو کتابت ہے۔ صحیح مصرع یوں ہے ” گرنوشتست پند بر دیوار (ناشر)