آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 550

آریہ دھرم — Page 22

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲ آریہ دھرم بھلے مانسوں کے حق میں کیا لکھیں جو ایسی شرتیوں پر ایمان لا کر پھر اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام کی شادیاں اولاد کی غرض سے نہیں بلکہ شہوت رانی کی غرض سے ہیں افسوس خود تو یہ جائز 19 رکھیں کہ اپنے جیتے جی عین نکاح کی حالت میں اپنی عورتوں کا جوش شہوت فرو کرنے کے لئے اُن کو دوسروں سے ہم بستر کراویں اور ایسی ناپاک دیوئی سے ذرہ بھی شرم نہ کریں اور عورتیں بھی ایسی بھلی مانس ہوں کہ حمل کے دنوں میں بھی صبر نہ کر سکیں اور زندہ موجود خاوند کو چھوڑ کر دوسروں سے نیوگ کراتی پھریں تا اپنے شہوت کے جوش کو پورا کریں اور پھر اسلام کے نکاح پر معترض ہوں۔ اے صاحبان آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام میں محض شہوت رانی کی غرض سے نکاح کیا جاتا ہے ہمیں قرآن نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ پر ہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو اور اولاد صالح طلب کرنے کے لئے دعا کرو جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ الجزو نمبر ۵۔ یعنی چاہئے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقویٰ اور پرہیز گاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ ۔ ایسا نہ ہو کہ حیوانات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو ہوا ہے۔ ۔ اور اور محسنین کے لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتا وہ نہ صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے سو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں ایک عفت اور پرہیز گاری۔ دوسری حفظ صحت ۔ تیسری اولاد اور پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يَغْنِيَهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ الجزو نمبر ۱۸ سورۃ النور ۔ یعنی جو لوگ نکاح کی طاقت نہ رکھیں جو پرہیز گار رہنے کا اصل ذریعہ ہے تو اُن کو چاہئے کہ اور تدبیروں سے طلب عفت کریں چنانچہ بخاری اور مسلم کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حاشیہ۔ واضح ہو کہ احصان کا لفظ حصن سے مشتق ہے اور حصن قلعہ کو کہتے ہیں اور نکاح کرنے کا نام احصان اس واسطے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے انسان عفت کے قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے اور بدکاری اور بدنظری سے بیچ سکتا ہے اور نیز اولاد ہو کر خاندان بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور جسم بھی بے اعتدالی سے بچا رہتا ہے پس گویا نکاح ہر ایک پہلو سے قلعہ کا حکم رکھتا ہے۔ منہ ل النساء : ۲۵ ۲ النور : ۳۴