آریہ دھرم — Page 438
روح<mark>ان</mark>ی خزائن جلد ۱۰ ۴۳۲ <mark>اس</mark>لامی اصول کی فل<mark>اس</mark>فی یعنی دوزخی کہیں گے کہ اگر ہم عقلمند ہوتے اور مذہب اور عقیدہ کو معقول طریقوں سے آزماتے یا کامل عقلمندوں اور محققوں کی تحریروں اور تقریروں کو توجہ سے سنتے تو آج دوزخ میں نہ پڑتے۔ یہ آیت <mark>اس</mark> دوسری آیت کے موافق ہے جہاں اللہ <mark>تعالیٰ</mark> فرما<mark>تا</mark> ہے۔ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا یعنی <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> <mark><mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی</mark> <mark>نفوس</mark> کو <mark>ان</mark> کی <mark>وسعت</mark> <mark>علمی</mark> سے زیادہ <mark>کسی</mark> <mark>بات</mark> کو <mark>قبول</mark> <mark>کرنے</mark> کے <mark>لئے</mark> <mark>تکلیف</mark> نہیں <mark>دی<mark>تا</mark></mark> اور <mark>وہی</mark> <mark>عقیدے</mark> <mark>پیش</mark> <mark>کر<mark>تا</mark></mark> ہے <mark>جن</mark> کا <mark>سمجھنا</mark> <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی <mark>حد</mark> <mark><mark>اس</mark>تعداد</mark> میں <mark>داخل</mark> ہے <mark>تا</mark> <mark>اس</mark> کے <mark>حکم</mark> <mark>تکلیف</mark> مالا <mark>يطاق</mark> میں <mark>داخل</mark> نہ ہوں اور <mark>ان</mark> آیات میں <mark>اس</mark> <mark>بات</mark> کی طرف بھی اشارہ ہے کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> ک<mark>ان</mark>وں کے ذریعہ سے بھی علم الیقین حاصل کر سک<mark>تا</mark> ہے مثلاً ہم نے لنڈن تو نہیں دیکھا، صرف دیکھنے والوں سے <mark>اس</mark> شہر کا وجود سنا ہے مگر کیا ہم شک کر سکتے ہیں کہ شاید <mark>ان</mark> سب نے جھوٹھ بول دیا ہوگا مثلاً ہم نے عالمگیر بادشاہ کا زم<mark>ان</mark>ہ نہیں پایا اور نہ عالمگیر کی شکل دیکھی ہے مگر کیا ہمیں <mark>اس</mark> <mark>بات</mark> میں کچھ بھی شبہ ہے کہ عالمگیر چغ<mark>تا</mark>ئی بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔ پس ایسا یقین کیوں حاصل ہوا ؟ <mark>اس</mark> کا جواب یہی ہے کہ صرف سماع کے تواتر سے۔ پس <mark>اس</mark> میں کچھ شک نہیں کہ سماع بھی علم الیقین کے مرتبہ تک پہنچا<mark>تا</mark> ہے۔ نبیوں کی ک<mark>تا</mark> میں اگر سلسلہ سماع میں کچھ خلل نہ رکھتی ہوں وہ بھی ایک سماعی علم کا ذریعہ ہیں لیکن اگر ایک ک<mark>تا</mark>ب آسم<mark>ان</mark>ی ک<mark>تا</mark>ب کہلا کر پھر مثلاً پچ<mark>اس</mark> ساٹھ نسخے <mark>اس</mark> کے پائے جائیں اور بعض بعض کے مخالف ہوں تو گو <mark>کسی</mark> فریق نے یقین بھی کر لیا ہو کہ <mark>ان</mark> میں سے صرف دو چار صحیح ہیں اور باقی وضعی اور جعلی لیکن محقق کے <mark>لئے</mark> ایسا یقین جو <mark>کسی</mark> کامل تحقیقات پر مبنی نہیں بے ہودہ ہوگا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سب ک<mark>تا</mark>بیں اپنے تناقض کی وجہ سے رڈی اور نا قابل اعتبار قرار دی جائیں گی اور ہرگز جائز البقرة : ۲۸۷