آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 550

آریہ دھرم — Page 307

روحانی خزائن جلد ۱۰ ٣٠٧ ست بچن تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ چوٹیں نبوت کے بعد لگی ہیں اور ظاہر ز ہے کہ اس ملک میں نبوۃ کا زمانہ صرف تین برس بلکہ اس سے بھی کم ہے پس اگر اس مختصر زمانہ میں بجز صلیب کی چوٹوں کے کسی اور حادثہ سے بھی یسوع کو چوٹیں لگی تھیں اور ان چوٹوں کے لئے یہ مرہم طیار ہوئی تھی تو اس دعوی کا بار ثبوت عیسائیوں کی گردن پر ہے جو حضرت عیسیٰ کو جسم سمیت آسمان پر چڑھا رہے ہیں یہ مرہم حوار تین متواترات میں سے ہے اور متواترات علوم حسیہ بدیہیہ کی طرح ہوتے ہیں جن سے انکار کرنا حماقت ہے بقیہ حاشیہ در حاشیہ کیا گیا اس لئے اس کا نام یوسف ہوا ایسا ہی مریم کا نام بھی ایک واقعہ پر دلالت کرتا ہے اور وہ یہ کہ جب مریم کا لڑ کا عیسی پیدا ہوا تو وہ اپنے اہل و عیال سے دور تھی اور مریم وطن سے دور ہونے کو کہتے ہیں اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرما کر کہتا ہے وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا یعنی مریم کو کتاب میں یاد کر جبکہ وہ اپنے اہل سے ایک شرقی مکان میں دور پڑی ہوئی تھی سو خدا نے مریم کے لفظ کی وجہ تسمیہ یہ قرار دی کہ مریم حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے وقت اپنے لوگوں سے دورو مہجور تھی یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس کا لڑکا عیسی قوم سے قطع کیا جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے يُزَارُ وَ يُتَبَرَگ پہ ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلاد شام میں قبر ہے مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کیلئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا جس سے وہ نکل آئے اور جب تک وہ کشمیر میں زندہ رہے ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر مقام کیا گویا آسمان پر چڑھ گئے ۔ حضرت مولوی نوردین صاحب فرماتے ہیں کہ یسوع صاحب کی قبر جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے وہ جامع مسجد سے آتے ہوئے بائیں طرف واقع ہوتی ہے۔ جب ہم جامع مسجد سے اُس مکان میں جائیں جہاں شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ کے تبرکات ہیں تو یہ قبر تھوڑی شمال کی جانب عین کوچہ میں ملے گی اس کو چہ کا نام خانیار ہے اور یہ اصل قدیم شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے جیسا کہ ڈاکٹر بر نیر نے لکھا ہے پس اس بات کو بھی خیانت پیشہ عیسائیوں کی طرح ہنسی میں نہیں اُڑانا چاہئے کہ حال میں ایک انجیل تبت سے دفن کی ہوئی نکلی ہے جیسا کہ وہ شائع بھی ہو چکی ہے بلکہ حضرت مسیح کے کشمیر میں آنے کا یہ ایک دوسرا قرینہ ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ اس انجیل کا لکھنے والا بھی بعض واقعات کے لکھنے میں غلطی کرتا ہو جیسا کہ پہلی چار انجیلیں بھی غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں ۔ مگر ہمیں اس نادر اور عجیب ثبوت سے بکلی منہ نہیں پھیرنا چاہئے جو بہت سی غلطیوں کو صاف کر کے دنیا کو صیح سوانح کا چہرہ دکھلاتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ منہ مریم ۱۷