آریہ دھرم — Page 300
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۰۰ ست بچن ۱۷۶ قیوم کیونکر ہو۔ رہا آسمان سو وہ آسمانوں کا بھی قیوم نہیں کیونکہ اس کا جسم تو صرف چھ سات بالشت کے قریب ہوگا پھر وہ سارے آسمانوں پر کیونکر موجود ہو سکتا ہے تا اُن کا قیوم ہو لیکن ہم لوگ جو خدا تعالیٰ کو رب العرش کہتے ہیں تو اُس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ جسمانی اور جسم ہے اور عرش کا محتاج ہے بلکہ عرش سے مراد وہ مقدس بلندی کی جگہ ہے جو اس جہان اور آنے والے جہان سے برابر نسبت رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کو عرش پر کہنا درحقیقت ان معنوں سے مترادف ہے کہ وہ مالک الکونین ہے اور جیسا کہ ایک شخص اونچی جگہ بیٹھ کر یا کسی نہایت اور شخص اونچی جگہ بیٹھ کر یا کسی نہایت اونچے محل پر چڑھ کریمین و یسار نظر رکھتا ہے۔ ایسا ہی استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ بلند سے بلند تخت پر تسلیم کیا گیا ہے جس کی نظر سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ اس عالم کی اور نہ اُس دوسرے عالم کی ہاں اُس مقام کو عام سمجھوں کے لئے اوپر کی طرف بیان کیا جاتا ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ حقیقت میں سب سے اوپر ہے اور ہر یک چیز اُس کے پیروں پر گری ہوئی ہے تو اوپر کی طرف سے اس کی ذات کو مناسبت ہے مگر اوپر کی طرف وہی ہے جس کے نیچے دونوں عالم واقعہ ہیں اور وہ ایک انتہائی نقطہ کی طرح ہے جس کے نیچے سے دو عظیم الشان عالم کی دو شاخیں نکلتی ہیں اور ہر یک شاخ ہزار ہا عالم پر مشتمل ہے جن کا علم بجز اس ذات کے کسی کو نہیں جو اُس نقطہ انتہائی پر مستوی ہے جس کا نام عرش ہے اس لئے ظاہری طور پر بھی وہ اعلیٰ سے اعلیٰ بلندی جو اوپر کی سمت میں اُس انتہائی نقطہ میں متصور ہو جو دونوں عالم کے اوپر ہے وہی عرش کے نام سے عند الشرع موسوم ہے اور یہ بلندی باعتبار جامعیت ذاتی باری کی ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ مبدء ہے ہر یک فیض کا اور مرجع ہے ہر ایک چیز کا اور مسجود ہے ہر ایک مخلوق کا اور سب سے اونچا ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور کمالات میں ور نہ قرآن فرماتا ہے کہ وہ ہر ایک جگہ ہے جیسا کہ فرمایا أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ جدھر منه پھیر و اُدھر ہی خدا کا منہ ہے اور فرماتا ہے هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ کے یعنی جہاں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ، یعنی ہم انسان سے اُس کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں یہ تینوں تعلیموں کا نمونہ ہے۔ یکم دسمبر ۱۸۹۵ء بروز یکشنبه والسلام على من اتبع الهدى تمت بقلم خاکسار هیچمیدان از مریدان حضرت مسیح موعود غلام محمد امرتسری علی اللہ عنہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ذات باری ہونا چاہئے۔ (ناشر) کے البقرة : ١١٦ ۲ الحديد: ۵ ۳ ق : ۱۷