آریہ دھرم — Page 298
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۹۸ ست بچن ۱۷۴ اٹھائیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخرموت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آ گئی مگر چونکہ صرف دعوی ہی دعوی تھا اور خدائی طاقتیں ساتھ نہیں تھیں اس لئے دعوی کے ساتھ ہی پکڑا گیا بلکہ اسلام ان سب نقصانوں اور ناپاک حالتوں سے خدائے حقیقی ذوالجلال کو منزہ اور پاک سمجھتا ہے اور اس وحشیانہ غضب سے بھی اُس کی ذات کو برتر قرار دیتا ہے کہ جب تک کسی کے گلے میں پھانسی کا رستہ نہ ڈالے تب تک اپنے بندوں کے بخشنے کیلئے کوئی سبیل اُس کو یاد نہ آوے اور خدا تعالیٰ کے وجود اور صفات کے بارے میں قرآن کریم یہ سچی اور پاک اور کامل معرفت سکھاتا ہے کہ اس کی قدرت اور رحمت اور عظمت اور تقدس بے انتہا ہے اور یہ کہنا قرآنی تعلیم کے رو سے سخت مکر وہ گناہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور عظمتیں اور رحمتیں ایک حد پر جا کر ٹھہر جاتی ہیں یا کسی موقعہ پر پہنچ کر اُس کا ضعف اُسے مانع آ جاتا ہے بلکہ اُس کی تمام قدرتیں اس مستحکم قاعدہ پر چل رہی ہیں کہ باستثناء ان امور کے جو اُس کے تقدس اور کمال اور صفات کاملہ کے مخالف ہیں یا اُس کے مواعید غیر متبدلہ کے منافی ہیں باقی جو چاہتا ہے کر سکتا ہے مثلاً یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے اپنے تئیں ہلاک کر سکتا ہے کیونکہ یہ بات اُس کی صفت قدیم حتی وقیوم ہونے کے مخالف ہے وجہ یہ کہ وہ پہلے ہی اپنے فعل اور قول میں ظاہر کر چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی اور غیر فانی ہے اور موت اُس پر جائز نہیں ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھاتا اور قریباً نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر کے وزن پر عورتوں کی پیشاب گاہ سے روتا چلا تا پیدا ہو جاتا ہے اور پھر روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دُکھ اس فانی زندگی کے اُٹھاتا ہے اور آخر چند ساعت جان کندنی کا عذاب اُٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے کیونکہ یہ تمام امور نقصان اور منقصت میں داخل ہیں اور اُس کے جلال قدیم اور کمال تام کے برخلاف ہیں۔ پھر یہ بھی جاننا چاہئے کہ چونکہ اسلامی عقیدہ میں در حقیقت خدا تعالی تمام مخلوقات کا پیدا کر نیوالا ہی ہے اور کیا ارواح اور کیا اجسام سب اُسی کے پیدا کردہ ہیں اور اُسی کی قدرت سے ظہور پذیر ہوئے ہیں