آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 550

آریہ دھرم — Page 293

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۹۳ ست بچن دیکھو وہ کیسے شیطان کے پیچھے پیچھے * چلا گیا حالانکہ اس کو جانا مناسب نہ تھا اور غالباً یہی حرکت ۱۶۹ تھی جس کی وجہ سے وہ ایسا نادم ہوا کہ جب ایک شخص نے نیک کہا تو اُس نے روکا کہ مجھے کیوں نیک کہتا ہے حقیقت میں ایسا شخص جو شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا کیونکر جرات کر سکتا ہے کہ اپنے تئیں نیک کہے یہ بات یقینی ہے کہ یسوع نے اپنے خیال سے اور بعض اور باتوں کی وجہ سے حاشیہ آجکل کے یورپین فلاسفر با وجود عیسائی ہونے کے اس بات کو نہیں مانتے کہ در حقیقت یسوع کو شیطان پھسلا کر ایک پہاڑی پر لے گیا تھا کیونکہ وہ لوگ شیطان کے جسم کے قائل نہیں بلکہ خود شیطان کے وجود سے ہی منکر ہیں لیکن در حقیقت علاوہ خیالات ان فلاسفروں کے ایک اعتراض تو ضرور ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعہ شیطان کی رفاقت کا یہودیوں کے پہاڑوں اور گزرگاہوں میں ہوتا تو ضرور تھا کہ نہ صرف یسوع بلکہ کئی یہودی بھی اس شیطان کو دیکھتے اور کچھ شک نہیں کہ شیطان معمولی انسانوں کی طرح نہیں ہوگا بلکہ ایک عجیب و غریب صورت کا جاندار ہوگا جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتا ہوگا۔ پس اگر در حقیقت شیطان یسوع کو بیداری میں دکھائی دیا تھا تو چاہئے تھا کہ اُس کو دیکھ کر ہزار ہا یہودی وغیرہ اُس جگہ جمع ہو جاتے اور ایک مجمع اکٹھا ہو جا تا لیکن ایسا وقوع میں نہیں آیا۔ اسلئے یوروپین محقق اس کو کوئی خارجی واقع قبول نہیں کر سکتے بلکہ وہ ایسے ہی بیہودہ تخیلات کی وجہ سے جن میں سے خدائی کا دعوی بھی ہے انجیل کو دور سلام کرتے ہیں چنانچہ حال میں ایک یوروپین عالم نے عیسائیوں کی انجیل مقدس کی نسبت یہ رائے ظاہر کی ہے کہ میری رائے میں کسی دانشمند آدمی کو اس بات کے یقین دلانے کو کہ انجیل انسان کی بناوٹ بلکہ وحشیانہ ایجاد ہے صرف اسی قدر ضرورت ہے کہ وہ انجیل کو پڑھے پھر صاحب بہادر یہ فرماتے ہیں کہ تم انجیل کو اس طرح پڑھو جیسے کہ تم کسی اور کتاب کو پڑھتے ہو اور اس کی نسبت ایسے خیالات کرو جیسے کہ اور کتابوں کی نسبت کرتے ہو اپنی آنکھوں سے تعظیم کی پٹی نکال دو اور اپنے دل سے خوف کے بھوت کو بھگا دو اور دماغ اوہام سے خالی کرو تب انجیل مقدس کو پڑھو تو تم کو تعجب ہوگا کہ تم نے ایک لحظہ کیلئے بھی کیونکر اس جہالت اور ظلم کے مصنف کو عقلمند اور نیک اور پاک خیال کیا تھا ایسا ہی اور بہت سے فلاسفر سائنس کے جاننے والے جو انجیل کو نہایت ہی کراہت سے دیکھتے ہیں وہ انہیں نا پاک تعلیموں کی وجہ سے متنفر ہو گئے جن کو ماننا ایک عقلمند کیلئے در حقیقت نہایت درجہ جائے عار ہے مثلاً یہ ایک جھوٹا قصہ کہ ایک باپ ہے جو سخت مغلوب الغضب اور سب کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور ایک بیٹا ہے جو نہایت رحیم ہے جس نے باپ کے مجنونانہ + نوٹ ۔ عیسائیوں میں جس قدر کوئی فلسفہ کے مینار پر پہنچتا ہے اسی قدر انجیل اور عیسائی مذہب سے بیزار ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ان دنوں میں ایک میم صاحبہ نے بھی عیسائی عقیدہ کے رد میں ایک رسالہ شائع کیا ہے مگر اسلامی فلاسفروں کا اس کے برعکس حال ہے بوعلی سینا جورئیس فلاسفہ اور بد مذہب اور ملحد کر کے مشہور ہے وہ اپنی کتاب اشارات کے اخیر میں لکھتا ہے کہ اگر چہ حشر جسمانی پر دلائل فلسفہ قائم نہیں بلکہ اس کے برعکس قائم ہوتے ہیں مگر چونکہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اسلئے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ منہ