آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 550

آریہ دھرم — Page 286

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۸۶ ست بچن ۱۶۲ ہو کر صلیب پر سے اُتر آئے تو ہم اُس پر ایمان لائیں گے تو اُس وقت یسوع صلیب پر سے اُتر نہ سکا پس اِس وجہ سے یسوع کے شاگردوں کو بہت ہی ندامت ہوئی اور وہ یہودیوں کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہ رہے لہذا ضرور تھا کہ وہ ندامت کے چھپانے کیلئے کوئی ایسا حیلہ کرتے جس سے سادہ لوحوں کی نظر میں اُس طعن اور ٹھٹھے اور ہنسی سے بچ جاتے۔ سو اس بات کو عقل قبول کرتی ہے کہ اُنہوں نے فقط ندامت کا کلنک اپنے مونہہ پر سے اُتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا یسوع کی نعش کو اُس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہوگا اور پھر حسب مثل مشہور کہ خواجہ کا گواہ ڈڈو کہہ دیا ہوگا کہ لو جیسا کہ تم درخواست کرتے تھے یسوع زندہ ہو گیا مگر وہ آسمان پر چلا گیا ہے لیکن یہ مشکلیں بابا نانک صاحب کے فوت ہونے پر سکھ صاحبوں کو پیش نہیں آئیں اور نہ کسی دشمن نے اُن پر یہ الزام لگایا اور نہ ایسے فریبوں کیلئے اُن کو کوئی ضرورت پیش آئی اور نہ جیسا کہ یہودیوں نے شور مچایا تھا کہ نعش کرائی گئی ہے کسی نے شور مچایا سو اگر عیسائی صاحبان بجائے یسوع کے بابا نانک صاحب کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے تو کسی قدر معقول بھی تھا مگر یسوع کی نسبت تو ایسا خیال صریح بناوٹ اور جعلسازی کی بد بو سے بھرا ہوا ہے۔ اخیر عذر یسوع کے دکھ اُٹھانے اور مصلوب ہونے کا یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ خدا ہو کر پھر اسلئے سولی پر کھینچا گیا کہ تا اُس کی موت گناہگاروں کیلئے کفارہ ٹھہرے لیکن یہ بات بھی عیسائیوں کی ہی ایجاد ہے کہ خدا بھی مرا کرتا ہے گومرنے کے بعد پھر اُس کو زندہ کر کے عرش پر پہنچا دیا پر پہنچا دیا اور اس باطل وہم میں آج تک گرفتار ہیں کہ پھر وہ عدالت کرنے کیلئے دنیا میں آئے گا اور جو جسم مرنے کے بعد اُس کو دوبارہ ملا وہی جسم خدائی کی حیثیت میں ہمیشہ اُس کے ساتھ رہے گا ۔ مگر عیسائیوں کا یہ مجسم خدا جس پر بقول اُن کے ایک مرتبہ موت بھی آچکی ہے اور خون گوشت ہڈی اور اوپر نیچے کے سب اعضاء رکھتا ہے یہ ہندوؤں کے اُن اوتاروں سے مشابہ ہے جن کو آج کل آ ر یہ لوگ بڑے جوش سے چھوڑتے جاتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ عیسائیوں کے خدا نے تو صرف ایک مرتبہ