آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxii of 550

آریہ دھرم — Page xxxii

سیالکوٹی نے نہایت خوبی اور خوش <mark>اس</mark>لوبی سے پڑھا یہ لیکچر دو دن میں تمام ہوا۔۲۷؍ دسمبر قریباً چار گھنٹے اور ۲۹؍ دسمبر کو دو گھنٹے تک ہوتا رہا۔کل چھ گھنٹے میں یہ لیکچر تمام ہوا۔جو حجم میں ۱۰۰ صفحے کلاں تک ہو گا۔غرضیکہ مولوی عبدالکریم صاحب نے یہ لیکچر شروع کیا اور کیسا شروع کیا کہ تمام سامعین لٹو ہو گئے۔فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کے لئے حاضرین کی طرف سے فرمائش کی جاتی تھی عمر بھر ہمارے ک<mark>ان</mark>وں نے ایسا خوش آئند لیکچر نہیں سُنا دیگر مذاہب میں سے جتنے لوگوں نے لیکچر دیئے سچ تو یہ ہے کہ وہ جلسہ کے مستفسرہ سوالوں کے جواب بھی نہیں تھے عموماً سپیکر <mark>صرف</mark> چوتھے سوال پر ہی رہے اور باقی سوالوں کو <mark>ان</mark>ہوں نے بہت ہی کم مَسْ کیا اور زیادہ تر اصحاب تو ایسے بھی تھے جو بولتے تو بہت تھے مگر اُس میں ج<mark>ان</mark>دار بات کوئی نہیں تھی۔بجز مرزا صاحب کے لیکچر کے جو اِن سوالوں کا علیحدہ علیحدہ مفصّل اور مکّمل جواب تھا اور جس کو حاضرین جلسہ نے نہایت ہی توجہ اور دلچسپی سے سُنا اور بڑا بیش قیمت اور عالی قدر خیال کیا۔ہم مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں اور نہ اُن سے ہم کو کوئی تعلق ہے لیکن <mark>ان</mark>صاف کا خون ہم کبھی نہیں کر سکتے۔اور نہ کوئی سلیم الفطرت اور صحیح ک<mark>ان</mark>شنس <mark>اس</mark> کو روا رکھ سکتا ہے۔مرزا صاحب نے کل سوالوں کے جواب (جیسا کہ من<mark>اس</mark>ب تھا) قرآن شریف سے دیئے اور تمام بڑے بڑے اصول اور فروعاتِ <mark>اس</mark>لام کو دلائلِ عقلیہ سے اور براہینِ فلسفہ کے ساتھ مبرہن اور مزیّن کیا۔پہلے عقلی دلائل سے الہٰیات کے مسئلہ کو ثابت کرنا اور <mark>اس</mark> کے بعد کلامِ الٰہی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجیب ش<mark>ان</mark> دکھاتا تھا۔مرزا صاحب نے نہ <mark>صرف</mark> مسائلِ قرآن کی فل<mark>اس</mark>فی بی<mark>ان</mark> کی بلکہ الفاظِ قرآن کی فلالوجی اور فل<mark>اس</mark>وفی بھی ساتھ ساتھ بی<mark>ان</mark> کردی۔غرضیکہ مرزا صاحب کا لیکچر بہ ہیئت مجموعی ایک مکمّل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بے شمار معارف و حقائق و حکم و <mark>اس</mark>رار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفۂ الٰہیہ کو ایسے ڈھنگ سے بی<mark>ان</mark> کیا گیا تھا کہ تمام