آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 550

آریہ دھرم — Page 230

﴾١٠٦ روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۰ ست بچن دیادان دیاں توں کر کر دیکھن ہار دیا کریں پر بھ میل لہر کھن میں ڈھاہ اُسار یعنی تو مہربان دینے والا ہے اور کر کر کے دیکھتا ہے اگر تو مہربانی کرے تو اپنے ساتھ میں لے ایک لمحہ میں بہا دے اور اسارے یہ شعر با وا صاحب کا اس آیت قرآنی کے مطابق ہے۔ اللهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ، یعنی خدا جس کو چاہتا ہے اُس کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو اُس کی طرف جھکتا ہے اُس کو وہ راہ دکھاتا ہے ہر ایک دن وہ ہر یک کام میں ہے کسی کو بلاوے اور کسی کو رد کرے اور کسی کو آباد کرے اور کسی کو ویران کرے اور کسی کو عزت دے اور کسی کو ذلت دے اور پھر باوانا تک صاحب کا ایک یہ شعر بھی ہے۔ نیا گے من کی متری و سارے دوجی بھاؤ جی او ایٹو پاوے ہر در ساوڑا نہ لگے تئی واو جیو یعنی دل کی خواہش کو ترک کر دیوے دوسرا خیال چھوڑ دیوے اس طرح خدا کا دیدار پاوے تو اُس کو ہوا گرم نہ لگے۔ یہ شعر اس آیت سے اقتباس کیا گیا ہے۔ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحً صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا " یعنی جو جو شخص شخص خدا خد تعالیٰ کا دیدار چاہتا ہے چاہئے کہ وہ ایسے کام کرے جن میں فساد نہ ہو یعنی ایک ذرہ متابعت نفس اور ہوا کی نہ ہو اور چاہئے کہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ کرے نہ نفس کو نہ ہوا کو اور نہ دوسرے باطل معبودوں کو اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى ، یعنی جو شخص خدا سے ڈرے اور اپنے نفس کو اُس کی نفسانی خواہشوں سے روک لیوے سو اُس کا مقام جنت ہوگا جو آرام اور دیدار الہی کا گھر ہے۔ اور پھر با و اصاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں سب دنیاون جاونی مقام ایک رحیم یعنی تمام دنیا فنا ہونے والی ہے ایک خدا باقی رہے گا۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بالکل اس آیت کے مطابق ہے کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ الشورى: ۱۴ ۲ الرحمن : ٣٠ ٣ الكهف : ااا النازعات: ۴۱، ۴۲ ۵ الرحمن : ۲۸،۲۷