آریہ دھرم — Page xxvi
۵۔رائے بھو<mark>ان</mark>ی داس صاحب ایم۔اے ا<mark>کس</mark>ٹر اسیٹلمنٹ آفیسر جہلم ۶۔جناب سردار جواہر سنگھ صاحب سیکرٹری خالصہ کمیٹی لاہور۔(رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ’’ب‘‘ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور ۱۸۹۷ ء) سوامی شوگن چندر صاحب نے کمیٹی کی طرف سے جلسہ کا اشتہار دیتے ہوئے مسلم<mark>ان</mark>وں، عیسائیوں اور آریہ صاحب<mark>ان</mark> کو قسم دی کہ اُن کے نامی علماء ضرور اس جلسہ میں اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بی<mark>ان</mark> فرمائیں۔اور لکھا کہ جو جلسۂ اعظم مذاہب کا بمقام لاہور ٹاؤن ہال قرار پایا ہے اس کی اغراض یہی ہیں کہ سچے مذہب کے کمالات اور خوبیاں ایک عام مجمع مہذبین میں ظاہر ہو کر اُس کی محبت دلوں میں بیٹھ جائے اور اُس کے دلائل اور براہین کو لوگ بخوبی سمجھ لیں۔اور اس طرح ہر ایک مذہب کے بزرگ واعظ کو موقع ملے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائیاں دوسرے کے دلوں میں بٹھا دے اور سننے والوں کو بھی یہ موقع حاصل ہو کہ وہ <mark>ان</mark> سب بزرگوں کے مجمع میں ہر ایک تقریر کا دوسرے کی تقریر کے ساتھ موازنہ کریں اور جہاں حق کی چمک پاویں اُس کو قبول کر لیں۔اور آج کل مذاہب کے جھگڑوں کی وجہ سے دلوں میں سچے مذہب کے معلوم کرنے کی خواہش بھی پائی جاتی ہے اور اس کے لئے احسن طریق یہی معلوم ہوتا ہے کہ تمام بزرگ<mark>ان</mark>ِ مذہب جو وعظ اور نصیحت اپنا شیوہ رکھتے ہیں ایک مقام میں جمع ہوں اور اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں سوالات مشتہرہ کی پابندی سے بی<mark>ان</mark> فرمائیں۔پس اس مجمع اکابر مذاہب میں جو مذہب سچے پرمیشر کی طرف سے ہو گا ضرور وہ <mark>اپنی</mark> نمایاں چمک دکھلائے گا۔اسی غرض سے اس جلسہ کی تجویز ہوئی ہے اور ہر ایک قوم کے بزرگ واعظ خوب ج<mark>ان</mark>تے ہیں کہ اپنے مذہب کی سچائی ظاہر کرنا اُن پر فرض ہے۔پس جس حالت میں اِس غرض کے لئے یہ جلسہ <mark>ان</mark>عقاد پایا ہے کہ سچائیاں ظاہر ہوں تو <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے <mark>ان</mark> کو اِس غرض کے ادا کرنے کا اب خوب موقع دیا ہے جو ہمیشہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کے اختیار میں نہیں ہوتا۔پھر <mark>ان</mark>ہیں ترغیب دیتے ہوئے لکھا:۔’’کیا میں قبول کر سکتا ہوں کہ جو شخص دوسروں کو ایک مہلک بیماری میں خیال کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اُس کی سلامتی میری دوا میں ہے اور بنی نوع کی ہمدردی کا دعویٰ بھی کرتا ہے وہ ایسے موقعہ میں جو غریب بیمار اس کو علاج کے لئے بلاتے ہیں وہ د<mark>ان</mark>ستہ پہلو تہی کرے؟ میرا دل اِس <mark>بات</mark> کے لئے تڑپ رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہو جائے