آریہ دھرم — Page xxii
حقیقی رہنما کا کام دے گی۔جیسا کہ پہلے بھی <mark>اس</mark> کتاب کو پڑھ کر بہت سے سکھ مسلم<mark>ان</mark> ہو چکے ہیں۔چن<mark>ان</mark>چہ مولوی دوست محمد صاحب شاہد نے بحوالہ اخبار خالصہ سما چار امرتسر مؤرخہ ۸؍ دسمبر ۱۸۹۹ ء و اخبار خالصہ چاراردھ شتابدی نمبر ۱۹۵۰ء بحوالہ پیغام صلح ۲؍ جولائی ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۴ تاریخ احمدیہ جلد اول صفحہ۵۴۴ حاشیہ نمبر۳۳میں لکھا ہے:۔’’ایک سکھ بھائی دیر سنگھ ڈی لٹ نے ۱۸۹۹ء میں لکھا تھا کہ ’’ست بچن کے اثر سے کئی سکھ شیخ صاحب میں تبدیل ہو چکے ہیں۔‘‘ نیز بحوالہ سو<mark>ان</mark>ح عمری پنڈت لیکھرام آریہ مسافر صفحہ ۱۰۱ مصنفہ گنڈا رام بحوالہ ’’تحریک احمدیت کا سکھوں پر اثر‘‘ لکھا ہے:۔’’کہ پنڈت لیکھرام نے ذکر اذکار کرتے ہوئے کہا کہ مرزا قادی<mark>ان</mark>ی نے اِس چولہ کی جو گورو ن<mark>ان</mark>ک مکّہ سے ہمراہ لائے تھے کچھ روپے مہنت کو دے کر <mark>اس</mark> پر سے عربی آیات وغیرہ کی نقل کر لی ہے۔اب مرزا صاحب گورو ن<mark>ان</mark>ک جی کو مسلم<mark>ان</mark> قرار دے رہے ہیں۔معزز سکھوں نے کہا تھا کہ آپ <mark>اس</mark> کا جواب تحریر کریں تو میں نے اُن سے یہ شرط پیش کی تھی کہ آپ مہنت مذکور سے چولہ لے کر میرے حوالہ کریں۔میں جلسہ کر کے روبروئے عام لوگوں کے <mark>اس</mark> کو ماچس لگا کرجلاؤوں گا۔بعد <mark>اس</mark> کے جواب لکھوں گا <mark>ان</mark>ہوں نے مہنت سے چولہ لینے کی معذوری ظاہر کی اور میں نے خاموشی اختیار کی۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۵۳۷۔جدید ایڈیشن) سکھ اصحاب پنڈت لیکھرام سے مایوس ہو گئے تو <mark>ان</mark>ہوں نے چولہ صاحب کے متعلق نئی نئی روایات اختراع کرنا شروع کر دیں اور پھر لاجواب ہو کر جنم ساکھی کے نئے ایڈیشن میں جو سم۴۲۸ ن<mark>ان</mark>ک شاہی میں شائع ہوا چولہ صاحب کے متعلق لکھ دیا کہ ’’وہ چولہ آسم<mark>ان</mark> پر اُڑ گیا۔پھر کبھی نہ آیا‘‘ ( جنم ساکھی بھائی بالا صفحہ ۴۳۸ مطبوعہ مفید عام پریس لاہور) اِس کھلی تحریف کے علاوہ جو جنم ساکھی اگلے سال شائع ہوئی اُس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کردہ متعدد اقتب<mark>اس</mark>ات کو اپنے مطلب کے مطابق تبدیل کر دیا گیا۔تحریف کا یہ دروازہ کھلنا ہی تھا کہ چند برسوں کے <mark>ان</mark>در <mark>ان</mark>در سکھ لٹریچر کا ایسا حلیہ بگڑا کہ خود سکھ وِدّو<mark>ان</mark> پکار اُٹھے۔