آریہ دھرم — Page 137
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۷ ست بچن اکثر بیانات صرف غیر معقول ہی نہیں بلکہ ان میں اس قدر تناقض ہے اور اس قدر بعض بیانات ﴿۲۵﴾ بعض سے متناقض پائے جاتے ہیں کہ ایک عقلمند کے لئے بجز اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اس حصہ کو جو غیر معقول اور قریب قیاس باتوں سے متضاد ہے پا یہ اعتبار سے ساقط کرے ہاں یہ بھی کہیں گے کہ جس قدر اُن میں ایسا ا حصہ محفوظ ہے کہ نہ تو اُس میں کوئی تناقض اور نہ غیر معقول باتیں ہیں اور نہ لاف و گزاف اور گپ کے طور پر کسی مبالغہ کی اس میں سے بو آتی ہے وہ بیشک سوانح کی مد میں قبول کرنے کے لائق ہے اور یادر ہے کہ یہ تناقض اور اختلاف بیانات جیسا کہ جنم ساکھیوں میں پایا جاتا ہے یہی تناقض با وا صاحب کے اُن اشعار میں بھی ہے جو آ دگرنتھ میں موجود ہیں جیسا کہ پڑھنے والوں اور غور کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں ۔ اکثر حصہ بادا صاحب کے اشعار کا جو گرنتھ میں موجود ہے قرآن شریف کی آیتوں کا ☆ حاشیہ بعض کا یہ اعتراض ہے کہ باوانا تک صاحب گرنتھ میں تناسخ کے قائل ہیں پھر کیوں کر اُن کا مذہب اسلام ہو سکتا ہے سو واضح ہو کہ ہمیں باوا صاحب کے کلمات کا بخوبی علم ہے اور ہم نے قریبا تیس برس تک یہ شغل رکھا ہے با وا صاحب اُس تناسخ کے ہرگز قائل نہیں جس کے آریہ قائل ہیں جیسا کہ وہ آپ فرماتے ہیں۔ اول الله نورا پا یا قدرت کے سب بندے ایک نور تے سب جگ اُپجیا کون بھلے کو مندے یعنی خدا نے پہلے نور پیدا کیا اور پھر اُسی نور سے تمام دنیا کو پیدا کیا پس یہ تفریق کیونکر ہو کہ پیدائش کی رو سے کوئی بھلا اور کوئی برا ہے یعنی یہ کہنا کہ کوئی جزا کے طور پر پیدا ہوا اور کوئی سزا کے طور پر یہ سراسر غلطی ہے کیونکہ سب نور سے پیدا ہوئے ہیں یہ شعر باوا صاحب کا اواگون یعنی تناسخ کے رد میں ہے کیونکہ تناسخ میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ نیک عمل والوں کو اچھا جنم ملا اور بد عملوں والوں کو برا جنم ملا لیکن حق بات یہ ہے جو با وا صاحب نے فرمائی کہ روحوں میں پیدائش کی رو سے نیک و بد کی تقسیم نہیں ہو سکتی ہاں اعلیٰ اور ادنی کی تقسیم ہو سکتی ہے جیسے مثلاً کپڑے ایک ہی رنگ سے رنگے جائیں کوئی ہلکا رنگ اور کوئی ਅਵਲਿ ਅਲਹ ਨੂਰੁ ਉਪਾਇਆ ਕੁਦਰਤਿ ਕੇ ਸਭ ਬੰਦੇ ਏਕ ਨੂਰ ਤੇ ਸਭੁ ਜਗੁ ਉਪਜਿਆ ਕਉਨ ਭਲੇ ਕੋ ਮੰਦੇ