آریہ دھرم — Page 124
روحانی خزائن جلد ۱۰ المولد ست بچن ۱۲ انصاف اور حق جوئی کا پہن لیتا ہے تب با وا صاحب کی طرح آسمانی چولا اُس کے لئے اترتا ہے جس پر پاک کلام قدرت - کلام قدرت سے لکھا ہوا ہوتا ہے مگر دیا نند نے نہ چاہا کہ اُس پلید چولے بخل اور ا تعصب کو اپنے بدن پر سے دفع کرے اس لئے پاک چولا اُس کو نہ ملا اور سچے گیان اور سچی وڈیا سے بے نصیب گیا۔ باوا صاحب نے جوانمردی سے سفلی زندگی کا چولا پھینک دیا اس لئے وہ آسمانی چولا اُن کو پہنایا گیا جس پر قدرت کے ہاتھ نے گیان اور معرفت کی باتیں لکھی ہوئی تھیں اور وہ خدا کے منہ سے نکلی تھیں۔ اور یہ بھی یادر ۔ نہ ہے کہ جس زبان با زبان میں باوا صاحب نے پرورش پائی تھی وہ زبان و یدک سنسکرت سے بہت ہی ملتی تھی اور دراصل وہ تھوڑے تغیر کے بعد ویدک سنسکرت ہی تھی جیسا کہ ہم نے کتاب من الرحمن میں تحقیق السنہ کی تقریب میں بہت وضاحت کے ساتھ اس مطلب کو لکھا ہے لہذا باوا صاحب کو وید کے پڑھنے میں بہت ہی آسانی تھی گویا اُنہیں کی زبان میں وید تھا اس لئے جو کچھ اُن کو دید کی اصل حقیقت جاننے میں بہت کچھ موقعہ ملا اور ساتھ اس کے عارفانہ طبیعت کی زیر کی نے بھی مدددی یہ موقعہ ایسے پنڈت کو کہاں مل سکتا تھا جو ناحق کے تعصب اور فطرتی عبادت میں غرق تھا۔ اور دیانند کانر بھو کے لفظ کو پیش کرنا کہ دراصل یہ رنز بھے ہے اور اس سے باوا صاحب کی جہالت ثابت کرنا نہایت سفلہ پن کا خیال ہے کیونکہ با وا صاحب کا اُس کتاب میں ویدک سنسکرت پیش کرنا ارادہ نہ تھا افسوس کہ اُس زود رنج پنڈت نے ایک ادنی لفظی تغیر پر اس قدر احمقانہ جوش دکھلا یا حالانکہ جائز تھا کہ باوا صاحب نے در اصل نر بجھے ہی لکھا ہو اور پھر سہو کا تب سے نر بھو ہو گیا ہو اگر اس قدر سہو کا تب ماننے کے لائق نہیں اور خواہ مخواہ با وا صاحب کو ہی ملزم کرنا ہے تو پھر دیا نند کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے جو اُس نے اپنی پہلی ستیارتھ پرکاش میں بہت سے امور کو اپنے مذہب کی تعلیم قرار دیا اور جب چاروں طرف سے اعتراض اٹھے اور جواب بن نہ پڑا تو یہ بہانہ بنایا کہ یہ میرا مذہب نہیں یہ کاتب نے آپ لکھ دیا ہوگا ۔ اب کوئی سوچے کہ کا تب تو صرف ایک لفظ یا دو لفظ کو کم و بیش کر سکتا ہے نہ یہ کہ کئی ورق کا تب اپنی طرف سے لکھے اور