آریہ دھرم — Page 103
٦٩ روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۰۳ یوه درخواست ہے جو بمراد منظوری گورنمنٹ میں بعد تکمیل دستخطوں کے بھیجی جائے گی درخواست آریہ دھرم یه درخواست مسلمانان برٹش انڈیا کی طرف سے جن کے نام ذیل میں درج ہیں بحضور جناب گورنر جنرل ہند دام اقبالہ اس غرض سے بھیجی گئی ہے کہ مذہبی مباحثات اور مناظرات کو اُن ہوگئی ۲ ناجائز جھگڑوں سے بچانے کے لئے جو طرح طرح کے فتنوں کے قریب پہنچ گئے ہیں اور خطرناک حالت پیدا کرتے جاتے ہیں اور ایک وسیع بے قیدی ان میں طوفان کی طرح نمودار ئی ہے دو مندرجہ ذیل شرطوں سے مشروط فرما دیا جاوے اور اسی طرح اُس وسعت اور بے قیدی کو روک کر ان خرابیوں سے رعایا کو بچایا جاوے جو دن بدن ایک مہیب صورت پیدا کرتی جاتی ہیں جن کا ضروری نتیجہ قوموں میں سخت دشمنی اور خطرناک مقدمات ہیں ۔ ان دو شرطوں میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام وہ فرقے جو ایک دوسرے سے مذہب اور عقیدہ میں اختلاف رکھتے ہیں اپنے فریق مخالف پر کوئی ایسا اعتراض نہ کریں جو خود اپنے پر وارد ہوتا ہو یعنی اگر ایک فریق دوسرے فریق پر مذہبی نکتہ چینی کے طور پر کوئی ایسا اعتراض کرنا چاہے جس کا ضروری نتیجہ اس مذہب کے پیشوا یا کتاب کی کسر شان ہو جس کو اس فریق کے لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مانتے ہوں تو اُس کو اس امر کے بارے میں قانونی ممانعت ہو جائے کہ ایسا اعتراض اپنے فریق مخالف پر اس صورت میں ہرگز نہ کرے جبکہ خود اس کی کتاب یا اُس کے پیشوا پر وہی اعتراض ہو سکتا ہو دوسری شرط یہ ہے کہ ایسے اعتراض سے بھی ممانعت فرما دی جائے جو ان کتابوں کی بناء پر نہ ہو جن کو کسی فریق نے اپنی مسلم اور مقبول کتابیں ٹھہرا کر ان کی ایک چھپی ہوئی فہرست اپنے ایک کھلے کھلے اعلان کے ساتھ شائع کرادی ہو اور صاف اشتہار دیدیا ہو کہ یہی وہ کتابیں ہیں جن پر میرا عقیدہ ہے اور جو میری مذہبی کتابیں ہیں سو ہم تمام درخواست کنندوں کی التماس یہ ہے کہ ان دونوں شرطوں کے بارے میں ایک قانون پاس ہو کر اس کی خلاف ورزی کو ایک مجرمانہ حرکت قرار دیا جاوے اور ایسے تمام مجرم دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند یا جس دفعہ کی رو سے سر کار مناسب سمجھے سزا یاب ہوتے رہیں ۔ اور جن ضرورتوں کی بناء پر ہم رعایا سرکار انگریزی کی اس درخواست کے لئے مجبور ہوئے ہیں وہ تفصیل ذیل ہیں۔