آریہ دھرم — Page 72
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۷۲ آریہ دھرم قانون دکھائی وزارت کے تبدیل ہوتے ہی ولایت کے نامور اور سر بر آوردہ اخبار ٹائمز نے جس زور شور سے قانون دکھائی کو پھر جاری کرنے کے سلسلہ جنبانی کی ہے وہ ناظرین پر ظاہر کی جاچکی ہے۔ کنسر ویٹو وزارت سے جو سرکاری عہدہ داران کی رائے کو ہمیشہ بڑی وقعت سے دیکھتی ہے امید ہو سکتی ہے کہ بالضرور وہ اس معاملہ پر اچھی طرح غور کرے گی ۔ کیونکہ اس قانون کی منسوخی کے وقت سر جارج وایٹ صاحب کمانڈر انچیف افواج ہند نے جو پرزور مخالفانہ رائے ظاہر کی تھی وہ اس قابل ہے کہ ضرور کنسر ویٹو گورنمنٹ اس پر توجہ کرے گورنمنٹ ہند بھی اس قانون کے منسوخ کرنے پر رضامند نہ تھی پس ان واقعات کی رو سے پورے طور پر خیال ہو سکتا ہے کہ قانون دکھائی پھر جاری کیا جاوے اس میں شک نہیں ہے کہ قانون دکھائی کے منسوخ ہونے کے دن سے گورہ سپاہیوں کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے دیکھا جاتا ہے کہ برٹش کے بہادر سپاہی بازاروں میں آتشک کی مریض فاحشہ عورتوں کے ساتھ خراب ہوتے پھرتے ہیں جس کا نتیجہ حسب رائے کمانڈرانچیف صاحب بہادر بہت خوفناک نکلنے کی امید ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ سرکاری طور پر ہمیں اس بات کی خبر نہیں ملی کہ سال ۱۸۹۴ء میں کتنے گورے سپاہی مرض آتشک میں مبتلا ہوئے گو مخالفان قانون دکھائی نے مہم چترال کی گورہ فوج کی صحت کو دیکھ کر نہایت مسرت ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ موید ان قانون دکھائی کی یہ رائے کہ اس قانون کے منسوخ ہونے سے تمام گورہ سپاہ مرض آتشک وغیرہ میں مبتلا ہو جاوے گی غلط ٹھہرتی ہے مگر یہ واقعہ اس قابل نہیں ہے کہ جس سے تشفی ہو سکے کیونکہ مہم چترال میں چیدہ اور تندرست جوان بھیجے گئے تھے نیز لڑائی اور جنگلی ملک کی وجہ سے وہ کہیں خراب ہو کر بیمار نہیں ہو سکتے تھے اس امر کا دہرا نا ضروری نہیں کہ گورے سپاہی چونکہ بالکل کم تعلیم یافتہ اور دیہاتی نوجوان ہیں نیز بوجہ گوشت خور ہونے کے وہ زیادہ گرم مزاج کے ہیں اس لئے ان سے نفسانی خواہش روکے رکھنے کی امید رکھنا محض لا حاصل ہے۔ قانون دکھائی کے جاری ہونے کے دنوں ہر ایک گوره پلٹن کے لئے کسی عورتیں ملازم رکھی جاتی تھیں جن کا ہمیشہ ڈاکٹری معائنہ ہوتا رہتا تھا اور تمام گورہ لوگوں کو ان ملازم رنڈیوں کے علاوہ اور جگہ