اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 615

اَربعین — Page 247

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۴۷ تحفہ گولڑویہ خدائی کارخانہ قدرت میں چھٹے دن اور چھٹے ہزار کو الہی فعل کی تکمیل کے لئے قدیم سے مقرر بقیه حاشیه جو یہود اور نصاری میں محفوظ اور متواتر چلا آتا ہے جس کی شہادت اعجازی طور پر کلام معجز نظام قرآن شریف میں بکمال لطافت بیان موجود ہے جیسا کہ ہم نے متن میں مفصل بیان کر دیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام سے قمری حساب کے رو سے ۴۷۳۹ برس بعد میں مبعوث ہوئے ہیں اور شمسی حساب کے رو سے ۴۵۹۸ برس بعد آدم صفی اللہ حضرت نبینا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے ۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہزار پنجم میں یعنی الف خامس میں ظہور فرما ہوئے نہ کہ ہزار ششم میں اور یہ حساب بہت صحیح ہے کیونکہ یہود اور نصاری کے علماء کا تواتر اسی پر ہے اور قرآن شریف اس کا مصدق ہے اور کئی اور وجوہ اور دلائل عقلیہ جن کی تفصیل موجب تطویل ہے قطعی طور پر اس بات پر جزم کرتی ہیں کہ ما بین سید نا محمد مصطفیٰ اور آدم صفی اللہ میں یہی فاصلہ ہے اس سے زیادہ نہیں گو آسمانوں اور زمینوں ۹۳ کے پیدا کرنے کی تاریخ لاکھوں برس ہوں یا کروڑ ہا برس ہوں جس کا علم خدا تعالیٰ کے پاس ہے لیکن ہمارے ابو النوع آدم صفی اللہ کی پیدائش کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک یہی مدت گذری تھی یعنی ۴۷۳۹ برس بحساب قمری اور ۴۵۹۸ برس بحساب شمسی اور جبکہ قرآن اور حدیث اور تو اتر اہل کتاب سے یہی مدت ثابت ہوتی ہے تو یہ بات بدیہی البطلان ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہزار ششم کے آخر پر مبعوث ہوئے تھے کیونکہ اگر وہ آخر ہزار ششم تھا تو اب تیرہ سوسترہ اور اس کے ساتھ ملا کر سات ہزار تین سوسترہ ہوں گے حالانکہ بالا تفاق تمام احادیث کے رو سے عمر دنیا گل سات ہزار برس قرار پایا تھا تو گویا اب ہم دنیا کے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں اور گویا اب دنیا کو ختم ہوئے تین سو سترہ برس گزر گئے یہ کس قدر لغو اور بیہودہ خیال ہے