اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 615

اَربعین — Page 124

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۲۴ تحفہ گولڑویہ سلسلہ کے خلیفوں سے مشابہت دے کر صاف طور پر سمجھا دیا کہ اس سلسلہ کے آخر میں بھی ایک مسیح ہے اور درمیان میں باراں خلیفے ہیں تا موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس جگہ بھی چوداں کا عدد پورا ہو ایسا ہی سلسلہ محمدی خلافت کے مسیح موعود کو چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا کیونکہ موسوی سلسلہ کا مسیح موعود بھی ظاہر نہیں ہوا تھا جب تک کہ سن موسوی کے حساب سے چودھویں صدی نے ظہور نہیں کیا تھا ایسا کیا گیا تا دونوں مسیحوں کا مبدء سلسلہ سے فاصلہ باہم مشابہ ہو اور سلسلہ کے آخری خلیفہ مجد دکو چودھویں صدی کے سر پر ظاہر کرنا تکمیل نور کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مسیح موعود اسلام کے قمر کا متمم نور ہے اس لئے اس کی تجدید چاند کی چودھویں رات سے مشابہت رکھتی ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ کیونکہ اظہار تام اور اتمام نور ایک ہی چیز ہے۔ اور یہ قول کہ ليظهره على الاديان كل الاظهار مساوی اس قول سے ہے کہ لیتم نوره كل الاتمام اور پھر دوسری آیت میں اس کی اور بھی تصریح ہے اور وہ یہ ہے - يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكُفِرُونَ کے اس آیت میں تصریح سے سمجھایا گیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں پیدا ہوگا کیونکہ اتمام نور کے لئے چودھویں رات مقرر ہے۔ غرض جیسا کہ قرآن شریف میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی بن مریم کے درمیان باراں خلیفوں کا ذکر فرمایا گیا اور اُن کا عدد بارہ ظاہر کیا گیا اور یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ تمام بارہ کے بارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھے مگر تیرھواں خلیفہ جو اخیری خلیفہ ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اپنے باپ کے رو سے اس قوم میں سے نہیں تھا کیونکہ اس کا کوئی باپ نہ تھا جس کی وجہ سے وہ حضرت موسیٰ سے اپنی شاخ ملا سکتا ۔ یہی تمام باتیں سلسلہ خلافت محمد یہ میں پائی جاتی ہیں یعنی حدیث متفق علیہ سے ثابت ہے کہ اس سلسلہ میں بھی درمیانی خلیفے باراں ہیں اور تیرھواں جو خاتم ولایت محمد یہ ہے وہ محمدی قوم میں سے نہیں ہے یعنی قریش میں سے نہیں اور یہی چاہیے تھا کہ باراں خلیفے تو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے الصف : ١٠ الصف: 9