انوارالاسلام — Page 51
روحانی خزائن جلد ۹ ۵۱ انوار الاسلام وقت میں جو مہدی ہونے کا دعوی کرتا ہو چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں اکٹھے ہو گئے ہوں تو اس کی نظیر پیش کریں ۔ اور اگر پہلے بھی کسی مہدی کے لوگوں اور نصاری کا کچھ جھگڑا پڑا ہو اور نصاری نے اپنی فتح یابی کے لئے ایسی شیطانی آوازیں نکالی ہوں تو اس کی نظیر بھی بتلاویں۔ اور ہم ہر چہار نظیروں کے پیش کرنے والے کے لئے ہزار روپیہ نقد انعام مقرر کرتے ہیں ۔ ہم اس روپیہ کے دینے میں کوئی شرط مقرر نہیں کرتے صرف اس قدر ہوگا کہ بعد درخواست یہ ہزار روپیہ مولوی محمد حسن صاحب لدھیانوی کے پاس تین ہفتہ کے اندر جمع کرا دیا جاوے گا اور مولوی صاحب موصوف ایک تاریخ پر جو ان کی طرف سے مقرر ہو فریقین کو اپنے مکان پر بلا کر بلند آواز سے تین مرتبہ قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعات جو پیش کئے گئے بے نظیر نہیں ہیں اور جو کچھ ان کی نظیریں بتلائی گئی ہیں وہ واقعی طور پر صحیح اور درست اور یقینی اور قطعی ہیں ۔ اور بخدا ان نشانیوں کے مصداق ہونے کا مدعی در حقیقت کا فر ہے اور میں بصیرت کاملہ سے کہتا ہوں کہ ضرور وہ کافر ہے اور اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو میرے پر وہ عذاب اور قہر الہی نازل ہو جو جھوٹوں پر ہوا کرتا ہے۔ اور ہم ہر یک مرتبہ کے ساتھ آمین کہیں گے اور واپسی روپیہ کی کوئی شرط نہیں اور نہ عذاب کے لئے کوئی میعاد مقرر ہے۔ ہمارے لئے یہ کافی ہوگا کہ یا تو مولوی صاحب خدا تعالیٰ سے ڈریں اور قسم نہ کھاویں اور یا تمام مکفروں کے سرگروہ بن کرفتم کھالیں اور اس کے ثمرات دیکھیں ۔ اور ہم اس جگہ ﴿۵۰﴾ علمائے وقت کی خدمت میں یہ ادب عرض کرتے ہیں کہ وہ تکفیر اور انکار میں جلدی نہ کریں ۔ کیا ممکن نہیں کہ جس کو وہ جھوٹا کہتے ہیں اصل میں سچا وہی ہو۔ پس جلدی کر کے ناحق کی روسیا ہی کیوں لیتے ہیں۔ کیا کسی جھوٹے کے لئے آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں یا کبھی خدا نے کسی جھوٹے کو ایسی لمبی مہلت دی کہ وہ بارہ برس سے برابر الہام اور مکالمہ الہیہ کا دعویٰ کر کے دن رات خدا تعالیٰ پر افترا کرتا ہو اور خدا تعالیٰ اس کو نہ پکڑے بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو ایک تو بیان کریں ورنہ اس قادر منتقم سے ڈریں جس کا غضب انسان کے غضب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور اس بات پر خوش نہ ہوں کہ بعض مسائل میں اختلاف ہے اور ذرہ دل میں سوچ لیں کہ اگر مہدی موعود تمام مسائل رطب یا بس میں علمائے وقت سے اتفاق کرنے والا ہوتا تو کیوں پہلے سے احادیث میں یہ لکھا جاتا کہ علماء اس کی تکفیر کریں گے اور سمجھیں گے کہ یہ دین کی بیخ کنی کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مہدی کی تکفیر کیلئے علماء اپنے پاس اپنے فہم کے