انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 581

انوارالاسلام — Page 47

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۷ انوار الاسلام میں حمایت کرنا جو خالصاً اللہ اور رسول کے لئے تھی لعنت نہیں ۔ کیا یہ ہزار لعنت کا لمبا رسہ کچھ بھی چیز نہیں اور اس سے کچھ ذلت نہیں ہوئی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے مکفروں کی بڑی پکی عزت ہے کہ مار پر مار پڑتی گئی مگر اس عزت میں فرق نہیں آتا۔ (۴) چوتھی لعنت : عیسائی فریق پر پیشگوئی کا پورا ہونا ہے جس کو ہم بیان کر چکے ہیں ۔ یہ لعنت در حقیقت کئی لعنتوں سے مرکب ہے جس کی تفصیل کی حاجت نہیں ۔ (۵) پانچویں لعنت : عنقریب پڑنے والی ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر باوجود اس فتح نمایاں کے جو ہم کو بفضلہ تعالیٰ عیسائیوں کے فریق مباحث پر حاصل ہوئی یعنی کوئی ان میں سے مرا اور کوئی موت تک پہنچا اور کوئی ماتم دار بنا اور کسی پر ذلت کی لعنت پڑی اور کسی پر اتنا خوف پڑا کہ نہ زندوں میں رہا اور نہ مردوں میں ۔ ۴۶ اب بھی اگر ہماری فتح کا یہ غزنوی لوگ اور دوسرے مکفر اقرار نہ کریں اور نہ آتھم کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ قسم کھاوے اور دو ہزار روپیہ لیوے۔ اور ایک برس گزرنے کے بعد اس کا مالک بن جاوے تو بے شک ان پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اور یہ سخ ہو گئے اور خنازیر سے جاملے اور عمداً وہ پہلو اختیار کیا جس میں اللہ و رسول کی اہانت ہے۔ اب ہم اس بارے میں زیادہ نہیں لکھیں گے اور اسی پر ختم کرتے ہیں ۔ میاں عبدالحق کو اس جواب سے رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایں ہمان سنگ است که بر سر من زدی۔ وافوض امرى الى الله هو نعم المولى ونعم النصير۔ ایک فیصلہ کرنے والا اشتہار انعامی ہزار روپیہ میاں رشید احمد گنگوہی وغیرہ کی ایمانداری پر کھنے کے لئے جنہوں نے اس عاجز کی نسبت یہ اشتہار شائع کیا ہے کہ شخص کافر اور دجال اور شیطان ہے اور اس پر لعنت اور سب وشتم کرتے رہنا ثواب کی بات ہے اور اس اشتہار کے وہ سب مکفر مخاطب ہیں جو کافر اور اکفر کہنے سے باز نہیں آتے خواہ لدھیانوی ہیں یا امرتسری یا غزنوی یا بٹالوی یا گنگوہی یا پنجاب اور ہندوستان کے کسی اور مقام میں الا لعنة الله على الكافرين المكفرين الذين يكفرون المسلمين - اب ان سب پر واجب ہے کہ اپنے ہم جنس مولوی محمد حسن صاحب لدھیانوی کو قسم دلوا کر ہزار روپیہ ہم سے لے لیں ورنہ یا درکھیں کہ وہ سب بباعث تکفیر مسلم اور انکار حق کے ابدی لعنت میں مبتلا ہو کر تمام شیاطین کے ساتھ جہنم میں پڑیں گے اور نیز یادر ہے کہ قسم اسی مضمون کی ہوگی جو اشتہا ر ھذا میں درج ہے۔