انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 581

انوارالاسلام — Page 10

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۰ انوار الاسلام کہ خدا تعالیٰ نے اس کے دل پر وہم کو مستولی کر دیا اور وہ قوم یہود کی طرح جان کے ڈر سے جا بجا بھٹکتا پھرا اور دیوانہ پن کے حالات ان میں پیدا ہو گئے اور اس کے حواس اڑ گئے اور قطرب اور مانیا کی بیماری کا بہت سا حصہ اس کو دیا گیا اور اس کے دماغ کی صحت جاتی رہی اور ہوش میں فرق آیا اور ہر وقت موت سامنے دکھائی دی اور اس نے اس قدر خوف اور ڈر اور ہول کو اپنے دل میں جگہ دی کہ عظمت اسلام پر مہر لگا دی اور اپنے اس خوف اور دھڑ کہ کو شہر بشہر لئے پھرا اور ہزاروں کو اس بات پر گواہ بنا دیا کہ اس کے دل نے اسلام کی بزرگی اور صداقت کو قبول کر لیا ہے ۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وہ اس لئے شہر بشہر بھاگتا پھرا کہ مسلمانوں کے قتل کرنے سے ڈرتا تھا کیونکہ امرت سر کی پولیس کا کچھ ناقص اور ادھورا انتظام نہ تھا تا وہ لدھانہ کی پولیس کی پناہ لیتا اور پھر لدھا نہ میں کسی نے اس پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا تا وہ فیروز پور کی طرف بھاگتا۔ پس اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلامی ہیبت کی وجہ سے اس شخص کی طرح ہو گیا جو قطرب کی بیماری میں مبتلا ہوا اور حقانی عظمت نے اس کے دماغ پر بہت کچھ کام کیا جس کی وہ برداشت نہ کر سکا اور خدا تعالیٰ نے اس کو اس غم میں ایک سودائی کی طرح پایا پس اُس نے اپنے الہامی وعدوں کے موافق اس وقت تک اس کو تاخیر دی جب تک وہ اپنی بے باکی کی طرف رجوع کر کے بد زبانی اور توہین اور گستاخی کی طرف میل کرے اور شوخی اور بے باکی کے کاموں کی طرف قدم آگے رکھ کر اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا کرے اور خدا تعالیٰ کی غیرت کا محرک ہو اور اگر کوئی انکار کرے کہ ایسا نہیں اور وہ اسلامی عظمت سے نہیں ڈرا تو اس پر واجب ہوگا کہ اس ثبوت کے لئے مسٹر عبد اللہ آتھم کو اس اقرار اور حلف کے لئے آمادہ کرے جس سے ایک ہزار روپیہ بھی اس کو ملے گا ورنہ ایسے شخص کا نام بجز نادان متعصب کے اور کیا رکھ سکتے ہیں۔ کیا یہ بات سچائی کے کھولنے کے لئے کافی نہیں کہ ہم نے صرف عبد اللہ آتھم کے حالات پیش نہیں کئے مگر ہزار روپیہ کا اشتہار بھی دے دیا اور یاد رکھو کہ وہ اس اشتہار کی طرف رخ نہیں کرے گا کیونکہ کا ذب ہے اور اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ وہ اس خوف سے مرنے تک پہنچ چکا تھا اور یاد رہے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم میں کامل عذاب کی بنیادی اینٹ رکھ دی گئی ہے اور نوٹ ۔ یہ ثابت ہے کہ یہ عاجز کسی جگہ کا بادشاہ نہ تھا بلکہ قوم کا متروک اور مسلمانوں کی نظر میں کافر اور اپنے چال چلن کے رو سے کوئی خونریز اور ڈاکو نہیں تھا۔ پھر اس قدر دہشت کہاں سے پڑگئی۔ اگر یہ خوف حق نہیں تھا تو اور کیا تھا۔