انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 581

انوارالاسلام — Page 242

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۴۲ منن الرحمن لغت من اللغات۔ تشتمل على قدر من المفردات لكنها ناقصة كالبيوت ہر یک زبان زبانوں میں سے کسی قدر مفردات پر مشتمل ہے۔ مگر وہ زبانیں خراب شدہ اور مسمار شدہ گھروں کی طرح ناقص المنهدمة الخربة او كالقفة التي يئس اهلها من الزهر والثمرة۔ و لا ترى ہیں یا وہ ایسی ہیں جیسے ایک بوسیدہ اور خشک درخت جس کا مالک اس کے پھل اور پھول سے نا امید ہو چکا اور تو مفردات کی دهوم المفردات في تلك الالسن المحارفة المقلوبة الا قليلا غير كاف کثرت کو ان نامبارک زبانوں میں نہیں پائے گا۔ مگر کچھ تھوڑا سا جو مہمات مطلوبہ کے لئے غیر کافی ہے اور تو سن چکا ہے کہ للمهمات المطلوبة۔ وانت سمعت انها كانت عربية في اوائل الازمنة۔ ثم وہ زبانیں ابتداء زمانہ میں عربی تھیں پھر مسخ ہو کر ایک نہایت بُری صورت میں ظاہر ہوئیں سواسی وجہ سے تو ان کو مردار کی مسخت فبدت باقبح الصورة۔ فلذلك تراها منتنةً كالجيفة۔ وخاوى طرح بد بودار پاتا ہے اور ان کے ترکش کوشکست یافتہ لوگوں کی طرح خالی دیکھتا ہے اور تو ان زبانوں کو کھلی کھلی ذلت میں الوفاض كاهل الذل والهزيمة۔ وتجد انها السنة بادية الذلة۔ ليس بيدها پاتا ہے ان کے ہاتھ میں مواد لغات کا کوئی بھاری ذخیرہ نہیں اور نہ اشتقاق کی دولت اور وجہ تسمیہ ان کے پاس ہے اور ان کے غزارة المادة۔ ولا دولة الاشتقاق ووجه التسمية و لصقت الفاظها بمعانيها كقتين۔ الفاظ اُن کے معانی کو ایسے چمٹے ہیں جیسے چڑی یعنی معانی کا خون پیتے ہیں اور ان کو بے رونق اور کمزور کرتے ہیں اور اپنے وانها بتلادها لا توفى النظام۔ ولا تكمل الكلام وما كان لاهلها ان يكتبوا بها قصة۔ گھر کے سرمایہ کے ساتھ جو وراثت سے اس کو ملی ہے۔ کسی قصہ کے نظام کو پورا نہیں کر سکتے اور کسی کلام کو کامل نہیں بنا سکتے اور او يملوا حكاية مبسوطة بحيث ان تواغد القصص نظام المفردات وتقابل ان کے اہل کو یہ طاقت نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی قصہ لکھیں یا کوئی مفصل حکایت تحریر میں لاوے اس طرح پر کہ مفردات کا التقسيم الطبعى فى جميع الخطوات و ان هذا حق وليس من الترهات | نظام قصوں کے ساتھ دوش بدوش چلا جائے اور ہر یک قدم میں طبعی تقسیم کے مقابل پڑے اور یہ بیان حق ہے واہیات باتوں و لاجله كتبنا في العربية هذه العبارات۔ وقدمنا هذه المقدمة كالكماة۔ میں سے نہیں ہے اور اس کیلئے ہم نے ان عبارتوں کو عربی میں لکھا ہے اور اس مقدمہ کو بہادر سپاہیوں کی طرح آگے کیا ہے