انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 581

انوارالاسلام — Page 240

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۴۰ منن الرحمن في ايدينا و مرتعدين۔ و انا لملاقوهم بعون الله ذي الجلال ولو فروا على لاحقة کا نپتے ہوئے بھاگیں گے اور ہم بفضلہ تعالٰی تعاقب کر کے ان کو جا ملیں گے اور ان کو جائے گریز نہیں اگرچہ الآطال ۔ ثم مفروهم محجرين۔ ولا مناص لهم ولو نزوا في السكاك۔ الا بعد وہ پتلی کمر والے گھوڑوں پر دوڑے ہوں پھر ہم زور دیں گے تا وہ بھاگیں یہاں تک کہ بھاگتے بھاگتے سواد الوجه والاحليلاك۔ و اذا اشرعنا الرمح على العدا۔ و ارينا المدى سوراخ میں جا گھسیں اور جب ہم نے نیزہ کو دشمنوں پر ہلایا اور کار دیں دکھلائیں اور موت کے گھوڑوں کو وعبطنا افراس الردا۔ فترى انهم يبدون نواجذهم غير ضاحكين۔ وما كتبت من سرپٹ دوڑایا پس تو انہیں دیکھے گا کہ بغیر ہنسنے کے دانت نکال رہے ہیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھا عندى ولكن الهمني ربّى و ایدنی فی امری فتاقت نفسي الى ان افض ختم بلکہ میرے خدا نے مجھے الہام کیا اور میرے امر میں مجھے تائید کی پس میرے نفس نے خواہش کی کہ میں اس بھید کی هذا السر ۔ و أرى الخلق ما اراني ذو الفضل والنصر و انه ذو الفضل المبين۔ مہر کھولوں اور لوگوں کو وہ معارف دکھلاؤں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دکھلائے اور وہ صاحب فضل مبین کا ہے ۔ وحاصل ما كتبنا في هذه المقدمة ان العربية أم الألسنة و وحى الله ذى اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ عربی اُم الالسنہ ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی ہے جو صاحب مجد اور المجد والعزة و غيرها كرش من هذه المطرة القاشرة۔ و ما لها سبد ولا لبد الا من عزت ہے اور دوسری زبانیں اس بزرگ مینہ میں سے چند قطرے ہیں اور ان کا قلیل و کثیر تمام اسی زبان میں سے ہے اور هذه اللهجة۔ وان العربية تقسم الامور وضعًا كما قسمها الله طبعا وفي ذلك عربی زبان وضع کی رو سے امور کو ایسے طور سے تقسیم کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں طبعی تقسیم کی ہے اور اس میں ايات للمتوسمين۔ وانها تجرى فى كل سكك بهذا الاشتراط و تتجافى عن فراست والوں کے لئے نشان ہے اور وہ ہر ایک کو چہ میں اسی شرط سے چلتی ہے اور تجاوز سے پر ہیز کرتی ہے اور خدا تعالیٰ الاشتطاط و نزهها الله عن ضيق الربع۔ و وسع مربعها لاضياف الطبع نے اس کو گھر کے تنگ ہونے سے پاک کر دیا ہے اور اس کے گھر کو طبع کے مہمانوں کے لئے وسیع کر دیا ہے