انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 581

انوارالاسلام — Page 94

روحانی خزائن جلد ۹ ۹۴ انوار الاسلام سچائی اور راست بازی کے برخلاف ہیں کیونکہ یہ باتیں بحیثیت ایک مدعا علیہ کے آپ کے منہ سے نکل رہی ہیں جو ہرگز قابل اعتبار نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ بحیثیت ایک گواہ کے جلسہ عام میں حاضر ہوں یا چند ایسے خاص لوگوں کے جلسہ میں جن کی تعداد فریقین کی منظوری سے قائم ہو جائے آپ خوب سمجھتے ہیں کہ فیصلہ کرنے کے لئے اخیری طریق حلف ہے، اگر آپ اس فیصلہ کی طرف رخ نہ کریں تو آپ کو حق نہیں پہنچتا کہ آئندہ کبھی عیسائی کہلاویں مجھے حیرت پر حیرت ہے کہ اگر واقعی طور پر آپ سچے اور میں مفتری ہوں تو پھر کیوں ایسے فیصلہ سے آپ گریز کرتے ہیں جو آسمانی ہو گا اور صرف سچے کی حمایت کرے گا اور جھوٹے کو نابود کر دے گا بعض نادان عیسائیوں کا یہ کہنا کہ جو ہونا تھا ہو چکا عجیب حماقت اور بے دینی ہے وہ اس امر واقعی کو کیوں کر اور کہاں چھپا سکتے ہیں کہ وہ پہلی پیشگوئی دو پہلو پر مشتمل تھی پس اگر ایک ہی پہلو پر مدار فیصلہ رکھا جائے تو اس سے بڑھ کر کون سی بے ایمانی ہوگی اور دوسرے پہلو کے امتحان کا وہی ذریعہ ہے جو الہی تفہیم نے میرے پر ظاہر کیا یعنی یہ کہ آپ قسم مؤكد بعذ اب موت کھا جائیں اب اگر آپ قسم نہ کھائیں اور یوں ہی فضول گو مدعا علیہوں کی طرح اپنی عیسائیت کا اظہار کریں تو ایسے بیانات شہادت کا حکم نہیں رکھتے بلکہ تعصب اور حق پوشی پر مبنی سمجھے جاتے ہیں سو اگر آپ سچے ہیں تو میں آپ کو اس پاک قادر ذو الجلال کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور تاریخ مقرر کر کے جلسہ عام یا خاص میں حسب شرح بالاقسم مؤکد بعذ اب موت کھاویں تا حق اور باطل میں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے فیصلہ ہو جائے۔ اب میں آپ کی اس مہمل تقریر کی جو آپ نے پرچہ نورافشاں ۲۱ رستمبر ۱۸۹۴ء میں چھپوائی ہے حقیقت ظاہر کرتا ہوں کیا وہ ایک شہادت ہے جو فیصلہ کے لئے کارآمد ہو سکے ہر گز نہیں وہ تو مدعا علیہوں کے رنگ میں ایک یک طرفہ