انوارالاسلام — Page 77
روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام آفت پڑی کیوں اب تجربہ کے بعد مقابل پر نہیں آتے یہی سبب ہے کہ انہیں میرے الہام کی حقیقت معلوم ہے دوسرے احمق عیسائی اور مسلمان نہیں جانتے مگر وہ خوب جانتے ہیں۔ ناظرین! کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ میدان میں قسم کھانے کے لئے آجائیں گے ہرگز نہیں آئیں گے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ کبھی جھوٹے بھی ایسی بہادری دکھلاتے ہیں جو ایمانی قوت پر مبنی ہو ان کے تو ڈر ڈر کے دست نکلتے رہے غنی نکلتے رہے غشی پر غشی طاری ہوتی رہی سو خدا نے جو سزا دینے میں دھیما اور رحم میں سب سے بڑھ کر ہے اپنی الہامی شرط کے موافق ان سے معاملہ کیا اب چڑیا اپنے پنجرہ سے نکلی ہوئی پھر کیونکر اسی پنجرہ میں داخل ہو جائے ۔ ﴿۶﴾ پیارے ناظرین! کیا تم ہماری تحریروں کو غور سے نہیں دیکھتے کیا سچائی کی شوکت تمہیں ان کے اندر معلوم نہیں ہوتی کیا نور فراست تمہارا گواہی نہیں دیتا کہ یہ ایمانی قوت اور شجاعت اور یہ استقلال دروغگو سے کبھی ظاہر نہیں ہو سکتا کیا میں پاگل ہو گیا یا میں دیوانہ ہوں کہ اگر قطعی طور پر مجھے علم نہیں دیا گیا تو یوں ہی تین ہزار روپیہ برباد کرنے کو تیار ہو گیا ہوں۔ ذرہ سوچو اور اپنے صحیح وجدان سے کام لو اور یہ کہنا کہ کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کا اثر عبداللہ آتھم پر ہوا ہو کس قدر صداقت کا خون کرنا ہے اگر اثر نہیں تھا تو کیوں آتھم صاحب چوروں کی طرح بھاگتے پھرے اور کیوں اپنی سچائی کی بنا پر اب قسم کھانے کے لئے میدان میں نہیں آتے خط پر خط رجسٹری کرا کر بھیجے گئے وہ مردے کی طرح بولتے نہیں۔ (۴) چوتها اعتراض ۔ یہ ہے کہ ایک صاحب اپنے اشتہار میں مجھ کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں کہ تم نے مباحثہ میں آتھم صاحب کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تم عمداً حق کو ج عمداً حق کو چھپا رہے ہو پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ اس وقت بھی بقول تمہارے اسلام کو حق جانتے تھے پس پیشگوئی کی میعاد میں کون سی نئی بات ان سے ظہور میں آئی الجواب جانا چاہیے بقیه حاشیه : پا کر پھر بھی قسم سے انکار اور گریز ہے تو عیسائیوں کی فتح کیا ہوئی کیا تمہاری ایسی تیسی سے۔ منہ