انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 581

انوارالاسلام — Page 73

روحانی خزائن جلد ۹ ۷۳ انوار الاسلام سب بیان ایک مدعا علیہ کی حیثیت میں ہے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص مدعا علیہ کی حیثیت سے عدالت میں کھڑا ہوتا ہے تو اپنی ذاتی اغراض اور سوسائٹی اور اپنے دوسرے دنیوی مصالح کے لحاظ سے نہ ایک دفعہ بلکہ لاکھ دفعہ جھوٹ بولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس وقت حلف دروغی کا مجرم نہیں ، اس قانون قدرت کو ہر یک شخص جانتا ہے کہ خدا تعالی قسم کے وقت دروغ گو کو ضرور پکڑتا ہے اس لئے اگر جھوٹے بے ایمان کو کوئی قسم غلیظ دی جاوے مثلاً بیٹا مر جانے کی ہی قسم ہو تو ضرور اس وقت وہ ڈرتا ہے اور حق کا رعب اس پر غالب آ جاتا ہے پس یہی سبب ہے کہ آتھم صاحب قسم نہیں کھاتے اور صرف بحیثیت مدعا علیہ انکار کئے جاتے ہیں۔ پس اس عجیب تماشا کو لوگ دیکھ لیں کہ ہم تو ان کو بحیثیت گواہ کھڑا کر کے اور گواہوں کی طرح ایک قسم غلیظ دے کر اس الہام کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ منکر ہیں اور وہ بار بار بحیثیت ایک مدعا علیہ کے اپنا عیسائی ہونا ظاہر کرتے ہیں یہ کس قدر دھوکا ہے جو لوگوں کو دے رہے ہیں۔ اس دجالی ۳ فرقے کے مکروں کو دیکھو جو کیسے باریک ہیں ہمارا مدعا تو یہ ہے کہ اگر وہ در حقیقت خوف کے دنوں میں اور ان دنوں میں جو دیوانوں کی طرح وہ بھاگتے پھرتے تھے اور جبکہ ان پر بہت سا اثر دہشت پڑا ہوا تھا در حقیقت اسلامی عظمت اور صداقت سے متاثر نہیں تھے تو کیوں اب بحیثیت ایک گواہ کے کھڑے ہو کر قسم نہیں کھاتے اور کیوں اس طریق فیصلہ سے گریز کر رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ اس طور سے قسم کھانے سے ان کی جان نکلتی ہے جس طور کو ہم نے اپنے اشتہار ہے بار ہزار روپیہ اور پھر اشتہار دو ہزار روپیہ میں بتصریح بیان کیا ہے یعنی یہ کہ وہ عام مجمع میں ہماری حاضری کے وقت ان صاف اور صریح لفظوں میں قسم کھا جاویں کہ میں نے میعاد پیشگوئی میں اسلام کی ☆۔ ا نوٹ: اس قسم کا نام قسم آئینی ہے یعنی وہ قسم مؤکد بعذ اب موت کھائیں اور ہم آمین کہیں آخری فیصلہ قسم ہے اس لئے قانون انگریزی نے بھی ہر یک قوم عیسائی وغیرہ کے لئے عند الضرورت قسم پر حصر رکھا ہے۔ منہ