انجام آتھم — Page 45
۴۵ روحانی خزائن جلدا لده رساله دعوت قوم بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحمدهُ ونُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَريم ( رساله دعوت قوم ) اشتہار مباہلہ بغرض دعوت ان مسلمان مولویوں کے جو اس عاجز کو کافر اور کذاب اور مفتری اور دجال اور جہنمی قرار دیتے ہیں رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے چونکہ علماء پنجاب اور ہندوستان کی طرف سے فتنہ تکفیر و تکذیب حد سے زیادہ گزر گیا ہے اور نہ فقط علماء بلکہ فقرا اور سجادہ نشین بھی اس عاجز کے کافر اور کا ذب ٹھہرانے میں مولویوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ اور ایسا ہی ان مولویوں کے اغوا سے ہزار ہا ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ وہ ہمیں نصاری اور یہود اور ہنود سے بھی اکفر سمجھتے ہیں۔ اگر چہ اس تمام فتنہ تکیر کا بوجھ نذیر حسین دہلوی کی گردن پر ہے مگر تا ہم دو کر تا ہم دوسرے مولویوں کا یہ گناہ ہے کہ انہوں نے اس نازک امر تکفیر مسلمانوں میں اپنی عقل اور اپنی تفتیش سے کام نہیں لیا۔ بلکہ نذیر حسین کے دجالا نہ فتوی کو دیکھ کر جومحمد حسین بٹالوی نے طیار کیا تھا بغیر تحقیق اور تنقیح کے اس پر ایمان لے آئے ۔ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس نالائق نذیر حسین اور اس کے نا سعادت مند شاگر د محمدحسین کا یہ سراسر افترا ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا ہمیں معجزات انبیاء علیہم السلام سے انکار ہے یا ہم خود دعوی نبوت کرتے ہیں یا نعوذ باللہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء نہیں سمجھتے یا ملائک سے انکاری یا حشر و نشر وغیرہ اصول عقائد اسلام سے منکر ہیں۔ یا صوم و صلوۃ وغیرہ ارکان اسلام کو نظر استخفاف سے دیکھتے یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ گواہ ہے کہ ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں۔ اور ان عقائد اور ان اعمال کے منکر کو ملعون اور خسر الدنيا والآخرة یقین رکھتے ہیں۔ اگر ہمیں ہمارے دعوئی کے موافق قبول کرنے کے لئے یہی ما بہ النزاع ہے تو ہم بلند آواز سے بار بار سناتے ہیں کہ ہمارے یہی عقائد ہیں جو ہم بیان کر چکے ہیں ۔ ہاں ایک بات ضرور ہے جس کے