انجام آتھم — Page 30
روحانی خزائن جلدا ۳۰ انجام آتھم ۳۰ اول درجہ کی رسائی رکھتے تھے ۔ پھر بھی اس کا دل اس بات پر مطمئن نہ ہو سکا کہ وہ ایسی نالش کے بعد پھر بیچ کر اپنے گھر میں آجائے گا۔ اگر رؤیت کی شہادتوں سے یہ ثابت کرنا آتھم کو میسر آ سکتا که در حقیقت یہ نا جائز حملے ہوئے تو کم سے کم وہ اخباروں کے ذریعہ سے اس ثبوت کو پبلک پر ظاہر کرتا۔ کیونکہ اس کامیابی کے اندر عیسائیوں کا بڑا مدعا بھرا ہوا تھا وجہ یہ کہ اس کا عام نتیجہ یہ تھا کہ ہمارا کاذب اور مفتری ہونا ہر ایک پر کھل جاتا اور کم سے کم یہ کہ ہمارے چال چلن کی نسبت ہر ایک کو قوی شبہ پیدا ہو جاتا اور صفحات تاریخ میں ہمیشہ یہ واقعہ قابل ذکر سمجھا جاتا اس امر میں کس کا اطمینان ہو سکتا ہے کہ آتھم نے ان بہتانوں کو پیش کر کے اور پھر ثبوت دینے سے روگردان ہو کر بے ایمانی اور دروغ گوئی کی راہ کو اختیار نہیں کیا۔ بقيه حاشيه کا خدائے تعالیٰ کی پاک کتابوں پر اعتراض ہے۔ ہمارے اشتہار چہارم کو پڑھو جس کے ساتھ چار ہزار روپیہ کا انعام ہے تا معلوم ہو کہ کیونکر خدائے تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی ۔ جیسا کہ تفسیر کبیر صفحہ ۱۶۴ اور امام کے سیوطی کی تفسیر در منثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔ دیکھو اشتہا ر ا نعامی چار ہزار روپیہ صفحہ ۱۲۔ اور یونہ یعنی یونس نبی کی کتاب میں جو بائبل میں موجود ہے۔ باب ۳ آیت ۴ میں لکھا ہے۔ اور یو نہ شہر میں یعنی نینوہ میں داخل ہونے لگا اور ایک دن کی راہ جا کے منادی کی اور کہا چالیس اور دن ہوں گے تب نینوہ برباد کیا جائے گا۔ تب نیوہ کے باشندوں نے خدا پر اعتقاد کیا اور روزہ کی منادی کی اور سب نے چھوٹے بڑے تک ٹاٹ پہنا اور خدا نے ان کے کاموں کو دیکھا کہ وہ اپنی بُری راہ سے باز آئے۔ تب خدا اس بدی سے کہ اس نے ا سے کہ اس نے کہی تھی پچھتا کے باز آیا اور اس نے ان سے وہ بدی نہ کی ۔ باب ۔ پر یونہ اس سے ناخوش ہوا اور نیٹ رنجیدہ ہو گیا ۔۲۔ اور اس نے خداوند کے آگے دعا مانگی ۔۳۔ اب اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان کو مجھ سے لے لے۔ کیونکہ میرا مرنا میرے جینے سے بہتر ہے۔ اور در منثور میں ابن عباس سے یہ روایت ہے۔ اوحى الله الى يونس انی مرسل عـلـيـهـم الـعـذاب فـي يـوم كذا وكذا۔ فعجوا الى الله وانابوا فاقالهم الله وآخر عنهم | العذاب۔ فقال يونس لا ارجع اليهم كذَّابًا ومضى على وجهه - یعنی خدا نے یونس پر یہ وحی | نازل کی کہ فلاں تاریخ میں عذاب نازل کروں گا۔ سو ان لوگوں نے خدا کی طرف تضرع کی اور رجوع کیا۔ سوخدا نے ان کو معاف کر دیا اور کسی دوسرے وقت پر عذاب ڈال دیا۔ تب یونس کہنے لگا