انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 448

انجام آتھم — Page 11

روحانی خزائن جلدا 11 انجام آتھم طرف سے کوئی اقدام ہوا تھا تو اس کو خدا نے خوب موقعہ دیا تھا کہ ہماری پیشگوئی کی قلعی 1 کھولتا اور حملہ آوروں کو پکڑتا اور ان حملوں کے وقوع کا ثبوت دیتا۔ یا کم سے کم اثناء پیشگوئی میں کسی تھا نہ میں رپورٹ لکھوا تا یا کسی حاکم سے ذکر کرتا ۔ یا اخباروں میں چھپوا دیتا۔ جس شخص نے اول جھوٹی پیشگوئی کر کے اس قدر اس کے دل کو دکھایا اور اس درجہ کا صدمہ پہنچایا اور پھر زہر دینے کی فکر میں رہا۔ اور پھر تین حملے کئے تا اس کو نیست و نابود کرے اور اس کی موت کو اس کے مذہب کے بطلان پر دلیل لاوے۔ کیا ضرور نہ تھا کہ ایسے ظالم کے ظلم پر ہرگز صبر نہ کیا جاتا۔ اگر اپنے لئے نہیں تو اپنے مذہب کی حمایت کے لئے ہی ایسے مفسد کا واجب تدارک کرنا چاہئے تھا۔ چنانچہ اخبار والوں نے بھی ہر طرف سے زور دیا کہ آتھم صاحب لوگوں پر احسان کریں گے اگر ایسے مفسد کو عدالت کے ذریعہ سے سزا دلائیں گے ۔ مگر آتھم صاحب موت سے پہلے ہی مر گئے اور ہماری سچائی کے پوشیدہ ہاتھ نے ایسا انہیں دبایا کہ گویا وہ زندہ ہی قبر میں داخل ہو گئے ۔ دنیا تمام اندھی نہیں ہر یک منصف سوچ سکتا ہے کہ جو ناحق کے الزاموں کے تیر انہوں نے میری طرف پھینکے تھے وہی تیر بوجہ عدم ثبوت ان کو زخمی کر گئے اور ان افتراؤں سے عقلمندوں نے سمجھ لیا کہ ضرور دال میں کالا ہے۔ غرض جبکہ وہ اس بار ثبوت سے سبکدوش نہ ہو سکے جس سے انہیں سبکدوش ہونا چاہیے تھا بلکہ قسم کھانے سے بھی محض حق پوشی کے طریق پر انکار کر گئے تو کیا اب بھی یہ ثابت نہ ہوا کہ ضرور انہوں نے پیشگوئی کی عظمت کا خوف دل میں ڈال کر اس شرط سے فائدہ اٹھایا تھا جو الہامی عبارت میں درج تھی ۔ قوله - قادیانی صاحب کے پیرو پیشگوئی کے سبب اُن سے منحرف ہو گئے ۔ اقول ۔ میاں حسام الدین کی یہ دروغ گوئی در حقیقت افسوس کی جگہ نہیں کیونکہ جبکہ ان کے بزرگ عیسائی ایک مردہ کو خدا بنانے کے لئے کئی جھوٹی انجیلیں بنا کر چھوڑ گئے تو