انجام آتھم — Page 3
روحانی خزائن جلدا ۳ انجام آتھم ☆ دی گئی ہے اور وہ بہر حال انکار پر جمے رہنے کی حالت میں آتھم صاحب کو پکڑلے گی چنانچہ ہمارا ۳ آخری اشتہار جو آتھم صاحب کے قسم کھانے کے لئے دیا گیا اس کی تاریخ ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ ء ہے اس کے بعد آتھم صاحب کا انکار کمال کو پہنچ گیا کیونکہ انہوں نے باوجود اس قدر ہمارے اشتہارات کے کہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا نکلا یہاں تک کہ سات اشتہار دیئے گئے مگر پھر بھی انہوں نے وہ گواہی جو ان پر فرض تھی ادا نہیں کی اس لئے خدائے تعالیٰ نے ان کو اس پیشگوئی کے اثر سے خالی نہ چھوڑا۔ چنانچہ سات اشتہار پر سات دفعہ انکار کرنے کے بعد آخر ساتویں اشتہار سے سات مہینے پیچھے موتیے ان پر وارد ہوگئی اور وہ ہادیہ کے عذار عذاب سے ؟ ، پہلے بھی نجات یافتہ نہ تھے اس وقت سے جوان کو پیشگوئی سنائی گئی اس وقت تک کہ ان کی جان نکل گئی غضب الہی کی آگ ہر وقت ان کو جلا رہی تھی۔ اور ایک خوف اور بے آرامی اور بے چینی ان کے لاحق حال ہو گئی تھی۔ پس کچھ شک نہیں کہ وہ پیشگوئی کے وقت سے عذاب الہی میں پکڑے گئے جیسے کوئی سخت بیماری میں پکڑا جاتا ہے اور ان کا آرام اور خوشی سب جاتی رہی ۔ سو الحمد لله والمنہ کہ جب آتھم صاحب نے اپنے رجوع الی الحق سے سات دفعہ انکار کیا تو خدا نے اس دروغ گوئی کی سزا میں ان کو جلد لے لیا۔ ناظرین یا درکھیں کہ آخری پیغام جو آتھم صاحب کو قسم کھانے کے لئے پہنچایا گیا وہ اشتہار ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء کا تھا۔ اس میں یہ غیرت دلانے والے الفاظ بھی تھے کہ اگر آتھم کو عیسائی لوگ ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں اور ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی وہ قسم نہیں کھائیں گے ۔ سو چونکہ آتھم نے سچی قسم سے منہ پھیرا اور نہ چاہا کہ حق ظاہر ہو سو جیسا کہ اس نے حق کو چھپایا حاشیہ۔ بلا شبہ آتھم کے دوستوں کو اس کی موت کا بہت ہی غم ہوا ہوگا بلکہ ہم نے سنا ہے کہ ایک ۔ عیسائی بھولے خان نامی اس کی موت کے غم سے مر ہی گیا۔ اور اس کو آتھم کی ناگہانی موت نے ایسے درد سے پکڑا کہ اس نے خود کہہ دیا کہ یقیناً اب میرا جینا مشکل ہے۔ چنانچہ دل پر سخت صدمہ پہنچنے کی وجہ سے وہ مر ہی گیا اور پھر عیسائیوں نے اپنی قدیم عادت جھوٹ کی وجہ سے اس کی موت کو اس کی کرامت بنا لیا۔ بہتر ہو کہ اس قسم کی کرامت دوسرے شریر پادریوں سے بھی ظاہر ہو تا خس کم جہاں پاک کی مثال صادق آوے۔ منه