انجام آتھم — Page 344
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۴۴ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ۶۰ جن کا خط عربی میں نے چھاپ دیا ہے جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ علم عربی میں ایک فاضل ہیں۔ اور دوسرے پیر صاحب العلم ہیں جو بلا د سندھ کے مشاہیر مشائخ میں سے ہیں۔ جن کے مرید ایک لاکھ سے کچھ زیادہ ہوں گے۔ اور باوجود اس کے وہ علوم عربیہ میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ اور علماء راسخین میں سے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے جو میری نسبت گواہی دی ہے وہ یہ ہے۔ ”انی رأیت رسول الله صلى الله عليه وسلم واستفسرته في امرك وقلت بين لي يارسول الله اهو كاذب مفترى او صادق۔ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "انه صادق و من عند الله ۔ فعرفت انك على حق مبين۔ وبعد ذلك لانشك في أمرك ولا نرتاب فی شانک و نعمل كما تأمر ۔ فان امرتنا ان اذهبوا الى بلاد امريكه فانا نذهب اليها وَمَا تكون لنا خيرة في امرنا وستجدنا ان شاء الله من المطاوعین “ یعنی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم کشف میں دیکھا پس میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیا یہ جھوٹا اور مفتری ہے یا صادق ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ صادق ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس میں نے سمجھ لیا کہ آپ حق پر ہیں ۔ اب بعد اس کے ہم آپ کے امور میں شک نہیں کریں گے اور آپ کی شان میں ہمیں کچھ شبہ نہیں ہوگا اور جو کچھ آپ فرمائیں گے ہم وہی کریں گے۔ پس اگر آپ یہ کہو کہ ہم امریکہ میں چلے جائیں تو ہم وہیں جائیں گے۔ اور ہم نے اپنے تئیں آپ کے حوالہ کر دیا ہے اور انشاء اللہ ہمیں فرمانبردار پاؤ گے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ان کے خلیفہ عبداللطیف مرحوم اور شیخ عبد اللہ عرب نے زبانی بھی مجھے سنائیں اور اب بھی میرے دلی دوست سیٹھ صالح محمد حاجی اللہ رکھا صاحب جب مدر اس سے ان کے پاس گئے تو انہیں بدستور مصدق پایا۔ بلکہ انہوں نے عام مجلس میں کھڑے ہو کر اور ہاتھ میں عصا لے کر تمام حاضرین کو بلند آواز سے سنا دیا کہ میں ان کو اپنے دعوئی میں حق پر جانتا ہوں اور ایسا ہی مجھے کشف کی رو سے معلوم ہوا ہے اور ان کے صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ جب میرے والد صاحب تصدیق کرتے ہیں تو مجھے بھی انکار نہیں ۔ اب عبد الحق غزنوی کو کچھ کھا کر مر جانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ اس عاجز کی لاکھوں انسانوں میں عزت ظاہر کر رہا ہے جس میں اس کی ذلت ہے۔ اس پلید کو سوچنا چاہیے کہ مباہلہ کا یہ اثر ہوتا ہے یا یہ کہ بھائی مرا اور اس کی بوڑھی عورت پر قبضہ کیا اور پھر اس کو مباہلہ کا اثر ٹھہرایا۔ اور یادر ہے کہ صرف یہی نہیں کہ میاں غلام فرید صاحب چاچڑاں والے اور پیر صاحب العلم سندھ والے مصدق ہیں بلکہ صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب جن کے بزرگوں کے ہندوستان میں ہزار ہا مرید ہیں اس عاجز کی