انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 448

انجام آتھم — Page 314

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۱۴ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ۳۰ کی عادت کے طور پر پیش آئیں۔ ہر ایک قسم کی شرارت اور خباثت کو چھوڑ دیں۔ پس اگر ان سات سال سو روپیہ دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے ۔ وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہوگا۔ مگر کہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا پس یہ خدا کی رحمت اور خدا کا فضل ہے جو اس نے ہمیں ان تکالیف سے بچایا۔ جن میں ہمارے مخالف گرفتار ہیں۔ میں اس واحد لاشریک کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر چہ مباہلہ سے پہلے بھی وہ ہمیشہ میرا متکفل رہا مگر مباہلہ کے بعد کچھ ایسے برکات روحانی اور جسمانی نازل ہوئے کہ پہلی زندگی میں میں ان کی نظیر نہیں دیکھتا۔ آٹھواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت زیادہ کرنے کے لئے ظہور میں آیا۔ کتاب ست بچن کی تالیف ہے۔ اس کتاب کی تالیف کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے وہ سامان عطا کئے جو تین سو برس سے کسی کے خیال میں بھی نہیں آئے تھے میری یہ کتاب سولہ لاکھ سکھ صاحبان کے لئے ایسی ایک لطیف دعوت ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ ان کے دلوں پر بہت اثر پڑے گا۔ میں اس کتاب میں باوا نانک صاحب کی نسبت ثابت کر چکا ہوں کہ با وا صاحب در حقیقت مسلمان تھے اور لا اله الا الله محمد رسول اللہ آپ کا ورد تھا۔ آپ بڑے صالح آدمی تھے۔ آپ نے دو مرتبہ حج بھی کیا۔ اور اولیاء قو سیاء اسلام کی قبور پر اعتکاف بھی کرتے رہے۔ جنم ساکھیوں میں آپ کے وصایا میں اسلام اور توحید اور نماز روزہ کی تاکید پائی جاتی ہے۔ آپ نماز کے بہت پابند تھے اور بنفس نفیس خود با نگ بھی دیا کرتے تھے آخری شادی آپ کی ایک نیک بخت مسلمان کی لڑکی سے ہوئی تھی۔ جس سے سمجھا جاتا ہے کہ آپ نے بدل مسلمانوں کے ساتھ تعلق رشتہ بھی پیدا کر لیا تھا۔ اور اسی کتاب میں لکھا ہے کہ آپ کی بھاری یادگا روہ چولہ ہے جس پر کلمہ شریف اور قرآن شریف کی بہت سی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔ آپ نے یادگار کے طور پر گرنتھ کو نہیں چھوڑا۔ اور نہ اس کے جمع کرنے کے لئے کوئی وصیت کی صرف اس چولہ کو چھوڑا جس پر قرآن شریف لکھا ہوا تھا۔ اور جس پر جلی قلم سے یہ لکھا ہوا تھا۔ ان الدين عند الله الاسلام یعنی سب دین جھوٹے ہیں مگر اسلام ۔ پس یہ کتاب جو بعد مباہلہ تیار ہوئی ۔ یہ وہ عطیہ ربانی ہے جو مجھ کو ہی عطا کیا گیا۔ اور خدا نے اس تبلیغ کا ثواب مجھ کو ہی عطا فرمایا۔ نواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کے زیادہ ہونے کا موجب ہوا یہ ہے کہ اس ہمارے دلی محب صاحبزادہ افتخار احمد صاحب خلف رشید حاجی منشی احمد جان صاحب جو لدھیانہ کے مشاہیر مشایخ میں سے تھے اور صدہا مرید رکھتے تھے جن کو مجھ سے بہت تعلق محبت تھا وہ یعنی صاحبزادہ صاحب موصوف اپنے وطن سے گویا ہجرت کر کے معہ اپنے تمام عیال اور اپنے بھائی میاں منظور محمد کے میرے پاس ہیں اور ہر یک خدمت میں حاضر ہیں گویا اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر رہے ہیں ۔ منہ