انجام آتھم — Page 304
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۲۰ انسان کا منصوبہ۔ ۳۰۴ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ماسوا اس کے میں دوبارہ حق کے طالبوں کے لئے عام اعلان دیتا ہوں کہ اگر وہ اب بھی نہیں سمجھے تو نئے سرے اپنی تسلی کر لیں ۔ اور یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ سے چھ طور کے نشان میرے ساتھ ہیں۔ اول ۔ اگر کوئی مولوی عربی کی بلاغت فصاحت میں میری کتاب کا مقابلہ کرنا چاہے گا تو وہ ذلیل ہوگا ۔ میں ہر ایک متکبر کو اختیار دیتا ہوں کہ اسی عربی مکتوب کے مقابل پر طبع آزمائی کرے ۔ اگر وہ اس عربی کے مکتوب کے مقابل پر کوئی رساله بالتزام مقدار نظم و نثر بنا سکے اور ایک مادری زبان والا جو عربی ہو تم کھا کر اس کی تصدیق کر سکے تو میں کا ذب ہوں ۔ دوم ۔ اور اگر یہ نشان منظور نہ ہو تو میرے مخالف کسی سورۃ قرآنی کی بالمقابل تفسیر بناویں یعنی رو برو ایک جگہ بیٹھ کر بطور فال قرآن شریف کھولا جاوے ۔ اور پہلی سات آیتیں جو نکلیں ان کی تفسیر میں بھی عربی میں لکھوں اور میرا مخالف بھی لکھے ۔ پھر اگر میں حقائق معارف کے بیان کرنے میں صریح غالب نہ رہوں تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں ۔ سوم ۔ اور اگر یہ نشان بھی منظور نہ ہو تو ایک سال تک کوئی مولوی نامی مخالفوں میں سے میرے پاس رہے ۔ اگر اس عرصہ میں انسان کی طاقت سے برتر کوئی نشان مجھ سے ظاہر نہ ہو تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں گا۔ چہارم ۔ اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو ایک تجویز یہ ہے کہ بعض نامی مخالف اشتہار دے دیں کہ اس تاریخ کے بعد ایک سال تک اگر کوئی نشان ظاہر ہو تو ہم تو بہ کریں گے اور مصدق ہو جائیں گے ۔ پس اس اشتہار کے بعد اگر ایک سال تک مجھ سے کوئی نشان ظاہر نہ ہوا جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہو خواہ پیشگوئی ہو یا اور تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں ۔ پنچم ۔ اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو شیخ محمد حسین بطالوی اور دوسرے نامی مخالف مجھ سے مباہلہ کر لیں ۔ پس اگر حاشیہ۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے مباہلہ کی دعوت پر اطلاع پا کر اپنے خط میں مولوی عبدالحق غزنوی کے مباہلہ کا ذکر کیا ہے شاید اس ذکر سے اس کا یہ مطلب ہے کہ اس مباہلہ سے عبد الحق پر کوئی بلا نازل نہ ہوئی اور نہ اس طرف کوئی نیک اثر ظاہر ہوا ۔ سو میں اس کو اور اس کے رفیقوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ اول تو یہ بات صحیح نہیں ہے کہ اس مباہلہ کے بعد عبد الحق کو کوئی