انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 448

انجام آتھم — Page 289

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۲۸۹ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم یہ کیسی خباثت تھی کہ آتھم کی موت کو جو عین الہام کے موافق بیبا کی کے بعد بلا توقف ظہور میں آئی کسی ﴿۵﴾ نے اس کو نشان الہی قرار نہ دیا۔ وہ گندے اخبار نویس جو آتھم کے مؤید تھے۔ پیشگوئی کی حقیقت کھلنے کے بعد ایسے تجاہل سے چپ ہوئے کہ گویا مر گئے ۔ اب آنکھیں کھولو اور اٹھو اور جا گو اور تلاش کرو کہ آتھم کہاں ہے۔ کیا خدا کے حکم نے اس کو قبر میں نہ پہنچا دیا۔ ہر ایک منصف اس پیشگوئی کو تسلیم کرے گا جائے گا۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی ۔ اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے ۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی لوگوں میں یہ مشہور کیا کہ میں ایک ایسا ورد بتلا سکتا ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی ہی رات میں خدا نظر آ جائے گا۔ بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو ۔ اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک وظیفی کو یہی کہنا پڑتا تھا کہ ہاں صاحب نظر آ گیا۔سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا۔ یہی آپ کا طریق تھا۔ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت شجاعت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے استاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں۔ آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی فکر پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں۔ سوجیسا کہ معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سنا کر معجزہ مانگنے سے روک دیا تھا۔ اس جگہ بھی وہی کارروائی کی اور کہا کہ قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو ۔ حالانکہ حضرت کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ یہودیوں کے لئے یہودی بادشاہ چاہئے نہ کہ مجوسی ۔اس بنا پر ہتھیار بھی خریدے۔ شہزادہ بھی کہلایا مگر تقدیر نے یاوری نہ کی ۔ متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی ۔ آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔ ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی ۔ ادنی ادنی بات میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یادر ہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی ۔ جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا