انجام آتھم — Page 286
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۲۸۶ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم آسمان سے ان کا فرضی مسیح نازل ہو۔ پھر اس صدی پر بھی کیا امید ہے شاید وہ بھی خطا جائے۔ غرض اب یہ نازک وقت اور صدی کا سر چاہتا تھا کہ صلیب کا توڑنے والا پیدا ہو اور خنزیروں کو جن میں خنز یعنی فساد کا جوش ہے دلائل بینہ کے ساتھ قتل کرے۔ سو وہ ظاہر ہو گیا جس کو قبول کرنا ہو کرے۔ پھر دوسرا نشان یہ ہے کہ اس گذشتہ زمانہ میں جس کو ستر برس گزر گئے ۔ یعنی اس زمانہ میں جبکہ یہ عاجز گوشہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا اور کوئی نہ جانتا تھا کہ کون ہے اور نہ کوئی آتا تھا اس وقت اس موجودہ زمانہ کی خبر دی گئی ہے جس میں ہر ایک طرف سے رجوع خلائق ہوا اور ایک دنیا میں شہرت ہوئی چنانچہ براہین احمد یہ میں سترہ برس کا الہام اس بارہ میں چھپا ہوا یہ ہے ۔ انت منی بمنزلة توحيدي وتفريدى فحان آن تُعان وتعرف بين الناس ۔ ياتون من كل فج عميق ۔ یعنی تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید ۔ پس وہ وقت آتا ہے کہ تو مشہور کیا جائے گا۔ اور لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے۔ اب دیکھو کیا یہ نشان نہیں کہ اس پیشگوئی کے مطابق اب خدا تعالٰی نے لاکھوں انسانوں میں اور ہندوستان کے کناروں تک اس عاجز کو مشہور کر دیا ہے اور ایسا ہی وہ لوگ جو ملنے کے لئے اس وقت تک آئے ان کی تعداد ساٹھ ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوگی ۔ کیا ایک عقلمند کو یہ پیشگوئی تعجب میں نہیں ڈالتی جو ایسے زمانہ میں ظاہر فرمائی گئی تھی جبکہ اس کا مفہوم بالکل قیاس سے بعید معلوم ہوتا تھا۔ پھر ایک اور پیشگوئی سوچنے والوں کے لئے نشان ہے جس کا ذکر براہین حصہ سوم کے صفحہ ۲۴۱ میں ہے جس کو پندرہ برس کا عرصہ گزر گیا ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ اس عاجز کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ عیسائیوں کا ایک فتنہ ہوگا اور تجھ کو ایک واقعہ میں وہ کا ذب ٹھہرائیں گے اور بالآخر خدا تیری سچائی ظاہر کرے گا۔ اس پیشگوئی کی عبارت یہ ہے۔ ولن ترضى عنك اليهود ولا النصارى۔ وخرقوا له بنين وبنات بغير علم ۔ قُل هُوَ اللهُ اَحَد اللهُ الصَّمَد لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنُ لَّهُ كُفُوًا أَحَدٍ۔ وَيَمْكُرُونَ وَيَمُكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ الْفِتْنَةُ هَهُنَا فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ ۔ قُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ ۔ یعنی یہود اور نصاری تیرے پر خوش نہیں ہوں گے جب تک تو ان کے مذہب کا پیرو نہ ہو۔ یعنی ان کا خوش ہونا محال ہے۔ ان لوگوں نے یعنی نصاری نے خدا کے لئے بیٹے بیٹیاں بنا رکھی ہیں حالانکہ خدا وہ ہے جس کے کوئی بیٹا نہیں اور نہ وہ کسی کا بیٹا۔ نہ اس کا