انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 448

انجام آتھم — Page 62

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۶۲ رساله دعوت قوم يفرح المؤمنون۔ ثلة من الأولين وثلة من الآخرين۔ وهذا تذكرة فمن شاء اور گروہ پہلوں میں سے اور ایک پچھلوں میں سے۔ اور یہ تذکرہ ہے پس جو چاہے خدا اتخذ الى ربه سبيلا ۔ إن النصارى حوّلوا الامر۔ سنردها على النصارى۔ کی راہ کو اختیار کرے۔ نصاری نے حقیقت کو بدلا دیا ہے سو ہم ذلت اور شکست کو نصاری پر واپس پھینک دیں گے لينبذن في الحطمة۔ انا نبشرك بغلام حليم مظهر الحق والعلاء اور آتھم نابود کرنے والی آگ میں ڈال دیا جاوے گا۔ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی كَانَ الله نزل من السماء اسمه عمانوايل ۔ يُولد لك الولد۔ ويدنى منك کا مظہر ہوگا گویا خدا آسمان سے اترا۔ نام اس کا عمانوایل ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تجھے الفضل۔ إنّ نورى قريب قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق لڑکا دیا جائے گا اور خدا کا فضل تجھ سے نزدیک ہوگا۔ میرا نور قریب ہے کہہ میں شریر مخلوقات سے خدا کی پناہ مانگتا عجل جسد له خوار فله نصب و عذاب۔ ہوں۔ یہ بے جان گوسالہ ہے اور بیہودہ گو یعنی لیکھرام پشاوری سو اس کو دکھ کی مار اور عذاب ہو گا یعنی اسی دنیا میں۔ (فارسی وارد و الهام) بخرام که وقت تو نزد یک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد ۔ خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا اور تیری برکتیں پھیلاؤں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا آمین یہ کسی قدر نمونه ان الہامات کا ہے جو وقتاً فوقتاً مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور بھی بہت سے الہامات ہیں مگر میں خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے لکھا ہے وہ کافی ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ، خدا کا مامور ، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے اور نیز ان تمام الہامات میں اس عاجز کی اس قدر تعریف اور توصیف ہے کہ اگر یہ تعریفیں در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ہر یک مسلمان کو چاہئے کہ تمام تکبر اور نخوت اور شیخی سے الگ ہو کر ایسے