رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 474 of 597

رسالہ الوصیت — Page 474

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۷۰ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ۔ فیض پاتی ہے اور آپ ہی سے تعلیم حاصل کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی محب بنتی ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ پس خدا تعالیٰ کا پیار ظاہر ہے کہ اس امت کو کسی صدی میں خالی نہیں چھوڑتا اور یہی ایک امر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پر روشن دلیل ہے۔ بالمقابل حضرت عیسی کی حیات ثابت نہیں ۔ اُن کی زندگی ہی میں ایسا فتنہ برپا ہوا کہ کسی اور نبی کی زندگی میں وہ فتنہ نہیں ہوا ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت عیسی سے مطالبہ کرنا پڑا کہ ۔ وَانْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ الْهَيْنِ " یعنی کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو۔ جو جماعت حضرت عیسیٰ نے تیار کی وہ ایسی کمزور اور نا قابل اعتبار تھی کہ خود یہی عیسائی بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔ انجیل سے ثابت ہے کہ وہ بارہ شاگرد جو اُن کی خاص قوت قدسی اور تاثیر کا نمونہ تھے اُن میں سے ایک نے جس کا نام یہودا اسکر یوٹی تھا اس نے تیس روپیہ پر اپنے آقا و مر شد ۱۹۰۰ کو بیچ دیا اور دوسرے نے جو سب سے اول نمبر پر ہے اور شاگرد رشید کہلاتا تھا اور جس کے ہاتھ میں بہشت کی کنجیاں تھیں یعنی پطرس ۔ اس نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ لعنت کی۔ جب خود حضرت مسیح کی موجودگی میں ان کا اثر اور فیض اس قدر تھا اور اب انیس سو سال گذرنے کے بعد خود اندازہ کر لو کہ کیا باقی رہا ہوگا ۔ اس کے بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت طیار کی تھی وہ ایسی صادق اور وفادار جماعت تھی کہ انہوں نے آپ کے لیے جانیں دے دیں ، وطن چھوڑ دیئے ، عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا۔ غرض آپ کے لیے کسی چیز کی پروا نہ کی۔ یہ کیسی زبردست تا ثیر تھی ۔ اس تاثیر کا بھی مخالفوں نے اقرار کیا ہے اور پھر آپ کی تاثیرات کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ اب تک وہ چلی جاتی ہیں۔ قرآن شریف کی تعلیم میں وہی اثر وہی برکات اب بھی موجود ہیں ۔ اور پھر تا شیر کا ایک ال عمران : ۳۲ ۲ المائدة : ۱۱۷ ہے؟