رسالہ الوصیت — Page 444
روحانی خزائن جلد ۲۰ ٢٠م قادیان کے آریہ اور ہم کہ سرور خان کا اس قدر روپیہ آیا مگر ساتھ ہی یہ عذر کیا کہ کیونکر معلوم ہو کہ یہ فلاں شخص کا رشتہ دار ہے۔ تب اس کے تصفیہ کے لئے ان کے روبرو مردان میں بابو الہی بخش اکو نٹنٹ کی طرف خط لکھا گیا تھا جو ان دنوں میں میرے سخت مخالف ہیں ۔ اُن کا جواب آیا کہ ارباب سرور خان ارباب محمد لشکر خان کا بیٹا ہے۔ (۷) اور کیا یہ سچ نہیں کہ ایک مرتبہ مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ اے عمی بازی خویش کر دی و مرا افسوس بسیار دادی اور اُسی دن شرمیت کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جس کا نام اُس نے امین چند رکھا اور اُن دنوں میں میرا بھائی غلام قادر مرحوم بیمار تھا میں نے لالہ شرمیت کو کہا کہ آج مجھے یہ الہام ہوا ہے ۔ یہ میرے بھائی کی موت کی طرف اشارہ ہے اور الہامی طور پر میرے بیٹے سلطان احمد کی طرف سے یہ کلمہ ہے اور یا ممکن ہے کہ تیرے بیٹے کی طرف اشارہ ہو جس کا نام تو نے امین چند رکھا ہے ۔ یہ میرا کہنا ہی تھا کہ لالہ شرمیت نے گھر میں جا کر اپنے ۳۵ بیٹے کا نام بدل دیا اور بجائے امین چند کے گوکل چند نام رکھ دیا جواب تک زندہ موجود ہے مگر چند روز کے بعد میرا بھائی فوت ہو گیا اور یہ بات بھی لالہ شرمیت سے حلفاً دریافت کرنی چاہیے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب گورداسپور میں ایک شخص کرم دین نام نے میرے پر دعوئی ازالہ حیثیت عرفی عدالت آتما رام اکسٹرا اسسٹنٹ میں دائر کیا ہوا تھا تو میں نے لالہ شرمیت کو اگر چہ مجھے یقین تھا کہ یہ الہام میرے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی وفات کے بارے میں ہے اور یہی میں نے اپنے بعض عزیزوں کو بتلا بھی دیا تھا اور خود اپنے بھائی مرحوم کو بھی بتلایا تھا جس سے وہ بہت عملین ہوئے اور پیچھے سے میں نے افسوس بھی کیا کہ ان کو میں نے کیوں بتلایا مگر جب شرمیت نے مجھے خبر دی کہ میں نے اپنے بیٹے کا امین چند نام رکھا ہے تو تقدیر الہی سے میرے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے کہ ممکن ہے کہ علمی سے مرادا مین چند ہو کیونکہ ہندولوگ امین چند کے نام کو مختصر کر کے امی بھی کہہ دیتے ہیں۔ تب اس کے دل میں بہت خوف پیدا ہوا اور اس نے گھر میں جا کر امین چند کی جگہ گوگل چند اپنے لڑکے کا نام رکھ دیا۔ منہ