رسالہ الوصیت — Page 317
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۱۳ رساله الوصیت عیسی علیہ السلام کو خدا نے وفات دے دی جیسا کہ خدا تعالیٰ کی صاف اور صریح آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ کے اس پر شاہد ہے جس کے معنے آیات متعلقہ کے ساتھ یہ ہیں کہ خدا قیامت کو عیسیٰ سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی اپنی اُمت کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانو تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں ان میں تھا تو اُن پر شاہد تھا اور اُن کا نگہبان تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر مجھے کیا علم تھا کہ میرے بعد وہ کسی ضلالت میں مبتلا ہوئے ۔ اب اگر کوئی چاہے تو آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے یہ معنے کرے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی ۔ اور چاہے تو اپنی ناحق کی ضد سے باز نہ آ کر یہ معنے کرے کہ جب تو نے مع جسم عنصری مجھے آسمان پر اُٹھا لیا۔ بہر حال اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ اگر وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور صلیب توڑی ہوتی تو اس صورت میں ممکن نہیں کہ عیسیٰ جو خدا کا نبی تھا ایسا صریح جھوٹ خدا تعالیٰ کے رو برو قیامت کے دن بولے گا کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد میری اُمت نے یہ فاسد عقیدہ اختیار کیا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا قرار دے دیا۔ کیا وہ شخص جو دوبارہ دنیا میں آوے اور چالیس برس دنیا میں رہے اور عیسائیوں سے لڑائیاں کرے ۔ وہ نبی کہلا کر ایسا مکروہ جھوٹ ﴿۱۳﴾ بول سکتا ہے کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں پس جب کہ یہ آیت حضرت عیسی کو دوبارہ آنے سے روکتی ہے ورنہ وہ دروغ گو ٹھہرتے ہیں ۔ تو اگر وہ مع جسم عنصری آسمان پر ہیں اور بموجب تصریح اس آیت کے قیامت کے دن تک زمین پر نہیں اُتریں گے تو کیا وہ آسمان پر ہی مریں گے اور آسمان میں ہی اُن کی قبر ہو گی لیکن آسمان پر مرنا آیت فِيهَا تَمُوْتُوْنَ کے برخلاف ہے ۔ پس اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری نہیں گئے بلکہ مر کر گئے اور جس حالت میں کتاب اللہ نے کمال تصریح سے یہ فیصلہ کر دیا تو پھر کتاب اللہ کی المائدة : ١١٨ الاعراف : ۲۶