اَلھُدٰی — Page 572
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۶۸ نزول المسيح تاریخ بیان ۱۹۰ نمبر شمار ان جس کی اس میں شر کیا گیا ہوں وی وی نے مندرج ذیل خرق عادت میگوئیاں لائیں جو نا ظاہر ی میں تاریخ لاہور بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۶ اور ذلیل کیا ۔ جب مخالف مولوی لوگوں نے مجھے جاہل کہا تو خدا نے مجھے ایسی عربی فصیح بلیغ کتابیں لکھنے اور مقابلہ کے لئے سب کو چیلنگ المني کرنے کی توفیق دی کہ آج تک کوئی مولوی جواب نہیں دے سکا۔ پیر مہر علی شاہ نے میری اہانت چاہی تو اول اعجاز مسیح کا جواب عربی میں نہ لکھنے پر وہ ذلیل ہوا اور پھر ایک مردہ کی تحریرات اپنے نام پر بطور سرقہ شائع کر کے ذلیل ہوا اور کیسا ذلیل ہوا کہ چوری بھی کی اور وہ بھی نجاست کی چوری۔ کیونکہ محمد حسن مردہ کی کل تحریر غلط تھی اور مہر علی اس کا چور تھا اس چوری سے کیا کیا ذلتیں اٹھائیں (۱) اول مردہ کے مال کا چور (۲) دوسرا چونکہ مال سب کھوٹا تھا اس لئے دوسری ذلت یہ ثابت ہوئی کہ علمی رنگ میں بصیرت کی آنکھ ایک ذرہ اس کو حاصل نہیں تھی ۔ (۳) تیسری یہ ذلت کہ سیف چشتیائی میں اقرار کر چکا کہ یہ میری تصنیف ہے بعد ازاں ثابت ہو گیا کہ جھوٹا کذاب ہے یہ اس کی تصنیف نہیں بلکہ محمد حسن متوفی کی تحریر ہے جو مر کر اپنی نادانی کا نمونہ چھوڑ گیا۔ مہر علی نے خواہ نخواہ اس کی پیشانی کا سیہ داغ اپنے ماتھے پر لگا لیا۔ لگا مولوی بننے اگلی حیثیت بھی جاتی رہی یہی پیشگوئی تھی کہ انی مهین من اراد اهانتک - محمد حسن مردہ نے جبھی کہ میری کتاب اعجاز لمسیح کا جواب لکھنے کا ارادہ کیا اس کو خدا نے فوراً ہلاک کیا۔ غلام دستگیر نے اپنی کتاب فتح رحمانی کے صفحہ ۲۷ میں مجھ پر بددعا کی اس کو خدا نے ہلاک کیا۔ مولوی محمد اسمعیل علیگڑھ نے مجھ پر پیشگوئی قاضی ضیاء الدین صاحب اور یہ پیشگوئی کتاب انوار الاسلام میں درج ہو کر ہزاروں لوگوں میں شائع ہو چکی ہے۔