اَلھُدٰی — Page 558
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۵۴ نزول المسيح تاریخ بیان ۱۷۶ نمبر شمار ان جس دیس میں مشرف کیا گیا ہوں اس وحی نےمجھے خرق عادت پیشیاں جلا میں جو نا پر اب تو میں اتاری اور بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ لد الله کنو سیسته م بقیه زنده گواه یادر ہے کہ یہ وہی اشعار اور وہی آخر پر نشان ہاتھ کا ہے جو لیکھر ام کی موت کی طرف پیشگوئی کرتا ہے جس کو ہم نے لیکھرام کی موت اور اس کے مجروح ہونے سے پانچ برس پہلے آئینہ کمالات اسلام میں لکھا ہے اور اس نقل میں کوئی تصرف نہیں بجز اس کے کہ آئینہ کمالات اسلام میں لیکھرام کا لفظ موٹے قلم سے لکھ کر تصویر کی طرح ۔ رح لٹا دیا گیا ہے اور اس جگہ وہ لاش کی تصویر ہی لکھ دی ہے جس کو خود آریوں نے نظارہ کے لئے شائع کیا ہے۔ اب ان تمام اشعار سے ظاہر ہے ہے کہ کہ کہ لیکھرام یہ کی موت کے لئے ایک تیغ بر ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پھر اس پیشگوئی کو نہایت وضاحت کے ساتھ ٹائٹل پیج بركات الدعا میں اخبارا نیس ہند میرٹھ کے بعض اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے بیان کیا گیا ہے چنانچہ ہم اس جگہ بجنسہ وہ عبارت جو لیکھرام کی موت سے کئی برس پہلے شائع ہو چکی ہے ٹائٹل پیچ برکات الدعا سے نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ نمونہ دعائے مستجاب انیس ھند میرٹھ اور ھماری پیشگوئی پر اعتراض اس اخبار کا پرچہ مطبوعہ ۲۵ مارچ ۱۸۹۳ء جس میں میری اس پیشگوئی کی نسبت جو لیکھرام پشاوری کے بارے میں میں نے شائع کی تھی کچھ نقطہ چینی ہے مجھ کو ملا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض اور اخباروں پر بھی یہ کلمۃ الحق شاق گذرا ہے اور حقیقت میں میرے لئے خوشی کا مقام ہے کہ یوں خود مخالفوں کے ہاتھوں اس کی شہرت اور اشاعت ہو رہی ہے۔ سو میں اس وقت اس نکتہ چینی کے جواب پیشگوئی شیخ فضل الہی آنریری مجسٹریٹ بھیرہ۔ جیون سنگھ نمبردار بھاٹا نوالہ۔ ملا وامل۔ شرمیت آریہ قادیان۔ ملا وامل لاہوری۔ جوالا سنگھ نمبردار کوٹلومان تحصیل رعیہ