اَلھُدٰی — Page 495
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۹۱ نزول المسيح کہ خدا کی غرض کتابوں کے نازل کرنے سے افادہ یقین ہے کہ تا اس کی ذات اور صفات ۱۳ اور اس کی پسندیدہ اور ناپسند راہوں پر لوگوں کو یقین آجاوے اور پھر یقین کی برکت سے وہ اپنے خدا پر پورا ایمان لاویں اور بدی سے پورے طور پر پر ہیز کریں اور نیکی کو پورے طور پر حاصل کریں سو جب نبوت کا زمانہ گذر جاتا ہے اور خدا کا کلام قصوں کے رنگ میں پڑھا جاتا ہے تب یہ غرض مفقود ہو جاتی ہے اور دلوں میں اس کلام پر یقین نہیں رہتا جیسا کہ تم یہودیوں کا حال دیکھتے ہو کہ توریت ان کے ہاتھ میں ہے اور کھوٹ ان کے دلوں میں ۔ اور کیا تم عیسائیوں میں بتا سکتے ہو کہ ایسے لوگ ان میں کتنے ہیں کہ ایک طرف مارکھا کر دوسری طرف بھی پھیر دیتے ہیں اور چادر لینے والے کو کر تہ دینے کے لئے طیار ہیں اور آنکھوں کو بد نظری سے روکتے ہیں اور لوگوں پر عیب نہیں لگاتے اور ان کے دل ٹیڑھے اور مگار اور منصوبہ باز نہیں مگر شاذ و نا در جس نے نہ انجیل سے بلکہ اپنی فطرت کی ہدایت سے بدی سے پر ہیز کی ہو۔ غرض جس طرح ہر یک صبح تازہ کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جب مرور زمانہ سے نور ایمان جو یقین ہے کم ہو جاتا ہے تو وہ خدا کی کلام کو پڑھتے تو ہیں مگر وہ پڑھنا ان کے حلق کے نیچے نہیں اترتا۔ تب خدا کا کلام جو ان سے دور ہو جاتا ہے اور انہیں چھوتا نہیں کوئی نیک اثر ان پر ڈال نہیں سکتا گویا وہ کلام ان کو چھوڑ کر آسمان پر اٹھ جاتا ہے تب ایک جو ہر قابل پیدا کیا جاتا ہے جس کو کلام اپنی طرف کھینچتا ہے اور خدا کی کلام کی طاقت اس کو یقین کے کامل مرتبہ تک پہنچاتی ہے تب وہ علم جو آسمان پر اٹھ گیا تھا پھر اس کے ذریعہ سے زمین پر واپس آجاتا ہے اسی طرح ہمیشہ یقین خدا کے تازہ مکالمہ سے تازہ پیدا ہوتا رہتا ہے اور جس شریعت کو خدا تعالیٰ منسوخ کر دیتا ہے اس شریعت کی پیروی کرنے والوں کے دل ممسوخ ہو جاتے ہیں اور ان میں کوئی باقی نہیں رہتا جس پر تازہ کلام وارد ہو۔ تب وہ کتاب ایک متعفن پانی کی طرح ہو جاتی ہے جس کے ساتھ بہت کیچڑ اور گندمل گیا ہے اور ایسی شریعت سے انسانوں کو کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے ہاتھ میں صرف قصے