اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 822

اَلھُدٰی — Page 465

روحانی خزائن جلد ۱۸ ٤٦١ نزول المسيح اُن کے گواہ ہیں مگر گذشتہ نبیوں کے معجزات اور پیشگوئیوں کا ایک بھی زندہ گواہ پیدا نہیں ۸۳ ہو سکتا باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کے معجزات اور پیشگوئیوں کا میں زندہ گواہ موجود ہوں اور قرآن شریف زندہ گواہ موجود ہے اور میں وہ ہوں جس کے بعض معجزات اور پیشگوئیوں کے کروڑہا انسان گواہ ہیں ۔ پھر اگر درمیان میں تعصب نہ ہو تو کون ایماندار ہے جو واقعات پر اطلاع پانے کے بعد اس بات کی گواہی نہ دے کہ در حقیقت بقیہ حاشیہ پر نہ گزر نے پایا تھا کہ آپ ہلاک ہو گیا اس کی یہ کتاب یعنی فتح رحمانی چھپی ہوئی موجود ہے ﴿۸۳ دیکھو صفحہ ۲۶ و ۲۷ اور خدا سے ڈرو۔ یہ دونوں پنجاب کے آدمی ہیں جو اپنے منہ سے مباہلہ کر کے آپ ہی مر گئے اگر یہ نشان نہیں تو معلوم نہیں ہمارے مخالفوں کے نزدیک نشان کس چیز کا نام ہے۔ دوسری محمد حسن کی موت کا موجب وہ پیشگوئی ہے جو اعجاز مسیح کے ٹائٹل پیچ پر لکھی گئی اور وہ یہ ہے ۔ من قام للجواب و تنمر ۔ فسوف يرى انه تندم و تذمر یعنی جو شخص اس کتاب کے جواب پر آمادہ ہوگا اور پلنگی دکھلائے گا وہ عنقریب دیکھے گا کہ اس کام سے نامراد رہا اور اپنے نفس کا ملامت گر ہوا اور اس سے بڑھ کر کیا نا مرادی ہو سکتی ہے کہ محمد حسن حسرت کو ساتھ ہی لے گیا اور مر گیا۔ اور اس ارادہ کو جو کہ وہ عربی کتاب کا عربی میں جواب لکھے پورا نہ کر سکا اور نہ کچھ شائع کر سکا۔ تیسری محمد حسن کی موت کا موجب وہ دعائے مباہلہ ہے جو اعجاز مسیح کے صفحہ ۱۹۹ میں کی گئی تھی ۔ چوتھے محمد حسن کی موت کا موجب وہ وحی الہی ہے جو مدت ہوئی جو دنیا میں شائع ہو چکی یعنی یہ کہ انی مھین من اراد اهانتک یعنی میں اُس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت چاہتا ہے ۔ پس چونکہ اس نے اعجاز لمسیح پر قلم اٹھا کر میری ذلت کا ارادہ کیا اس لئے خدا نے اُس کو ذلیل کر دیا اور اپنے منہ سے موت مانگ کر چند روز میں ہی مر گیا اور اپنی موت کو ہمارے لئے ایک نشان چھوڑ گیا ۔ فالحمد لله علی ذالک۔ منه اسی طرح محی الدین لکھو کے والے کا حال ہوا جب اس نے یہ الہام چھپوایا کہ ”مرزا صاحب فرعون تب اس کی وفات سے پہلے میں نے اس کو بذریعہ ایک خط کے جو اگست ۱۸۹۴ء کو لکھا گیا تھا اطلاع دی کہ اب وہ فرعون کی طرح اس موسیٰ کے سامنے اپنی سزا کو پہنچے گا۔ چنانچہ انہیں دنوں اور اس کی زندگی میں وہ خط الحق سیالکوٹ میں چھپا اور پھر اس کے مرنے کے بعد اس نشان کے اظہار کے لئے وہی خط مع اس کی تاریخ وفات کے اخبار الحکم قادیان مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء میں چھاپا گیا ۔ دیکھو الحکم ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۵ کالم ۲ و ۳ ۔ منہ