اَلھُدٰی — Page 460
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۵۶ نزول المسيح ۷۸ دیکھو اشتہار مذکور (۵ نومبر ۱۹۰۱ ء جس کا عنوان ہے ایک غلطی کا ازالہ ) صفحہ (۱) سطر (۱۳) چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ۔ اُن میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے هو الذى ارسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله دیکھو صفحہ ۴۹۸ براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ بقیه حاشیه دوسرا خط مولوی کرم الدین صاحب بنام حکیم فضل دین صاحب معتبر ایں عاجز مکرم معظم بندہ جناب حکیم صاحب مدظله العالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ ۳۱ جولائی کولڑ کا گھر پہنچ گیا۔ اُسی وقت سے کار معلومہ کی نسبت اس سے کوشش شروع کی گئی پہلے تو کتا بیں دینے سے اُس نے سخت انکار کیا اور کہا کہ کتا بیں جعفر زٹلی کی ہیں اور وہ مولوی محمد حسن مرحوم کا خط شناخت کرتا ہے اور اُس نے بتاکید مجھے کہا ہے کہ فوراً کتا ہیں لاہور زٹلی کے پاس پہنچا دوں لیکن بہت سی حکمت عملیوں اور طمع دینے کے بعد اُس کو تسلیم کرایا گیا مبلغ چھ روپیہ معاوضہ پر آخر راضی ہوا اور کتاب اعجاز مسیح کے نوٹوں کی نقل دوسرے نسخہ پر کر کے اصل کتاب جس پر مولوی مرحوم کی اپنی قلم کے نوٹ ہیں ہمدست حامل عریضہ ابلاغ خدمت ہے کتاب وصول کر کے اس کی رسید حامل عریضہ کو مرحمت فرمادیں اور نیز اگر موجود ہوں تو چھ روپے بھی حامل کو دے دیجئے گا تاکہ لڑکے کو دے دئے جاویں اور تا کہ دوسری کتاب شمس بازغہ کے حاصل کرنے میں دقت نہ ہو۔ کتاب شمس بازغہ کا جس وقت بے جلد نسخہ آپ روانہ فرمائیں گے فورا اصل نسخہ جس پر نوٹ ہیں اسی طرح روانہ خدمت ہو گا آپ بالکل تسلی فرماویں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہ ہوگی۔ اس لڑکے نے کہا ہے کہ اور بھی مولوی مرحوم کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کئی ایک نوٹ ہیں جو تلاش پر مل سکتے ہیں۔ جس وقت ہاتھ لگے تو اُن کا معاوضہ علیحدہ اُس سے مقرر کر کے نوٹ قلمی فیضی مرحوم بشرط ضرورت لے کر ارسال خدمت ہوں گے آپ شمس بازغہ کا نسخہ لڑکے سے مراد محمد حسن متوفی کا لڑکا ہے جو اس کا وارث ہے اُسی نے بقول مولوی کرم دین صاحب چھ روپے نقد لے کر دونوں کتا ہیں یعنی اعجاز لمسح اور شمس بازغہ جن پر محمد حسن مذکور کے دستخطی نوٹ تھے ہم کو دے دیں اور مہر علی کی پردہ دری کا یہی موجب ہوا من المؤلّف