اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 822

اَلھُدٰی — Page 450

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۶ نزول المسيح ۶۸ ٹھہرایا ہے اور چور قرار دیا ہے اور بار بار بطور مباہلہ میرے پر لعنت بھیجی ہے اس لئے میں اپنی بریت پبلک پر ظاہر کرنے کے لئے تیسری دفعہ پیر مہر علی شاہ صاحب کو موقعہ دیتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم نے ارادہ کیا ہے کہ ہم اس رسالہ کے آخر میں اگر خدا تعالیٰ نے چاہا اور نص سے جو تو چند عربی اشعار لکھیں گے اور پیر مہر علی صاحب ۔ بر مهر علی صاحب سے اور نیز ایک اور شخص ۔ شیعہ ہے اور علی حائری کے نام سے موسوم ہے ان اشعار کی مثل کا مطالبہ کریں گے ۔ اور بقیه حاشیه لکھتا ہے کہ میں ہر ایک شخص کو جو مہر علی کی اس خیانت کو دیکھنا چاہے اُس کی یہ قابل شرم چوری دکھا سکتا ہوں بلکہ اُس نے خود پیر مہر علی شاہ کا دستخطی ایک کارڈ بھیج دیا ہے جس میں وہ اس چوری کا اقرار کرتا ہے لیکن بعد اس کے یہ بیہودہ جواب دیتا ہے کہ اُس نے اپنی زندگی میں مجھے اجازت دے دی تھی کہ اپنے نام پر اس کتاب کو چھاپ دیں لیکن یہ عذر بدتر از گناہ ہے کیونکہ اگر اس کی طرف سے یہ اجازت تھی کہ اُس کے مرنے کے بعد مہر علی اپنے تئیں اس کتاب کا مؤلف ظاہر کرے تو کیوں مہر علی نے اس کتاب میں اس اجازت کا ذکر نہیں کیا اور کیوں دعویٰ کر دیا کہ میں نے ہی اس کتاب کو تالیف کیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ تو بے ایمانی کا طریق ہے کہ ایک شخص وفات یافتہ کی کل کتاب کو اپنی طرف منسوب کر لیا اور اُس کا نام تک نہ لیا۔ جس حالت میں محمد حسن نے خدا تعالیٰ کا مقابلہ کر کے اپنے تئیں اعجاز المسیح کے ٹائٹل پیج کی مندرجہ پیشگوئی انه تندم و تذمر کے موافق ایسا نا مراد بنایا کہ جان ہی دے دی اور پھر اعجاز لمسیح صفحہ ۱۹۹ کی مباہلا نہ دعا کا مصداق بن کر اپنے تئیں ہلاکت میں ڈال لیا تو ایسے کشتہ مقابلہ کے احسان کا ذکر کرنا بہت ضروری تھا اور دیانت کا یہ تقاضا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاف لفظوں میں لکھ دیتا کہ یہ کتاب میری تالیف نہیں ہے بلکہ محمد حسن کی تالیف ہے اور میں صرف چور ہوں نہ یہ کہ دروغگوئی کی راہ سے خطبہ کتاب میں اس تالیف کو اپنی طرف منسوب کرتا بلکہ چاہیے تھا کہ اس بد قسمت وفات یافتہ کی بیوہ کے