اَلھُدٰی — Page 440
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۳۶ نزول المسيح ۵۸ معجزہ عربی بلیغ کی تفسیر نویسی میں بالمقابل بلاتا ہوں ورنہ انسان کیا چیز اور ابن آدم کیا حقیقت کہ غرور اور تکبر کی راہ سے ایک دنیا کو اپنے مقابل پر بلا وے یہ عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بعض فقروں میں خدا تعالیٰ کی وحی انسانوں کے بنائے ہوئے صرفی نحوی قواعد کی بظاہر اتباع نہیں کرتی مگر ادنی توجہ سے تطبیق ہو سکتی ہے اسی وجہ سے بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بیہودہ ہیں۔ زبان کا علم وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو۔ اور زبان جیسا کہ تغیر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے ایسا ہی تغییر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ آج کل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھا جائے جو مصر اور مکہ اور مدینہ اور دیار شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صرف ونحو کے تمام قواعد کی بیخ کنی کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ اسی قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گزر چکا ہو۔ پس خدا تعالیٰ کی وحی کو اس بات سے کوئی روک نہیں ہے کہ بعض فقرات سے گذشتہ محاورہ یا موجودہ محاورہ کے موافق بیان کرے اسی وجہ سے قرآن میں بعض خصوصیات ہیں۔ علاوہ اس کے اس ملک میں صرفی نحوی قواعد سے بھی لوگوں کو اچھی طرح واقفیت نہیں اصل بات یہ ہے کہ جب تک زبان عرب میں پورا پورا تو غل نہ ہو اور جاہلیت کے تمام اشعار نظر سے نہ گذر جائیں اور کتب قدیمہ مبسوطہ لغت ؟ جو محاورات عرب پر مشتمل ہیں غور سے نہ پڑھے جائیں اور وسعت علمی کا دائرہ کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک عربی محاورات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا اور نہ ان کی صرف اور نحو کا باستیفا علم ہو سکتا ہے۔ ایک نادان نکتہ چینی کرتا ہے کہ فلاں صلہ درست نہیں یا ترکیب غلط ہے اور اسی قسم کا صلہ اور اسی قسم کی ترکیب اور اسی قسم کا صیغہ قدیم جاہلیت کے کسی شعر میں نکل آتا ہے اور اس ملک میں جو لوگ علماء کہلاتے ہیں بڑی دوڑ ان کی قاموس تک ہے حالانکہ قاموس کی تحقیق پر بہت جرح ہوئی ہیں اور کئی مقامات میں اُس نے دھو کہ کھایا ہے۔ یہ بیچارے جو علماء یا مولوی کہلاتے ہیں ان کو تو قدیم معتبر کتابوں کے نام بھی یاد نہیں اور نہ ان کو تحقیق اور تو غل زبان عربی سے کچھ دلچسپی ہے۔ مشکوۃ یا ہدایہ پڑھ لیا تو مولوی کہلائے اور پھر وہ بدہ پیٹ کے لئے وعظ کرنا شروع کر دیا۔ اگر وعظ سے کوئی عورت دام میں پھنس گئی تو اُس سے نکاح کر لیا۔ یا کسی گڈی پر بیٹھ کر تعویز گنڈوں سے اپنا معاش چلایا۔ پس اغراض نفسانیہ کے ساتھ زبان پر کیونکر احاطہ ہو سکے