اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 46
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۶ مباحثہ لدھیانہ ۴۴ موافق نہ پاؤں گا تو اس کو موضوع قرار دوں گا ۔ کلام رسول صلعم نہ سمجھوں گا (۲) اور اپنے پرچہ نمبر ۴ میں آپ صاف کہہ چکے ہیں کہ ان کتابوں کے وہ مقامات جن میں تعارض ہے تحریف سے خالی نہیں ۔ مگر اس میں یہ تصریح نہیں ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ایسی کوئی حدیث ہے یا نہیں جس کو آپ اس اصول کی شہادت سے موضوع قرار دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ ان مقامات ازالة الاوہام میں جو میرے پرچہ نمبرے میں منقول ہوئے ہیں آپ صحیحین کی بعض احادیث کو موضوع قرار دے چکے ہیں مگر آپ پرچہ نمبر ۸ میں اس سے انکار کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ جو کچھ میں نے وہاں کہا ہے شرطیہ طور پر کہا ہے کہ بشرط تعارض و عدم موافقت و مطابقت وہ احادیث موضوع ہیں۔ میرا وہ قطعی فیصلہ نہیں ہے۔ باوجود یکہ ان مقامات میں آپ نے یہ شرط نہیں لگائی بلکہ ان احادیث کا باہم تعارض خوب زور سے ثابت کیا اور پھر ان کو موضوع قرار دیا ہے۔ آپ کے میرے اصل سوال کا صاف جواب نہ دینے اور ازالۃ الاوہام کی تصریحات مذکورہ پرچہ نمبرے سے انکار کر جانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ اس سوال کے دونوشق جواب میں پھنتے ہیں اور کوئی شق قطعی طور پر اختیار نہیں کر سکتے اگر آپ یہ شق جواب اختیار کریں کہ وہ احادیث سب کی سب صحیح ہیں تو اس سے آپ پر سخت مصیبت عائد ہوتی ہے کیونکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث آپ کے عقائد مستحدثہ جدیدہ کے صریح خلاف ہیں ان احادیث کو صحیح مان کر آپ کا کوئی عقیدہ جدیدہ قائم و ثابت نہیں رہ سکتا اس وجہ سے آپ نے یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ احادیث صحیحین کو بلا وقفہ نظر صحیح تسلیم کرنا اندھا پن اور تقلید بلا دلیل ہے اور اگر آپ یہ شق جواب اختیار کریں کہ حدیث صحیحین سب کی سب موضوع یا ازاں جملہ بعض صحیح اور بعض موضوع ہیں تو اس سے عام اہل اسلام اور خصوصاً اہل حدیث جن کے بعض عوام آپ کے دام میں پھنس گئے ہیں آپ سے بے اعتقاد ہوتے اور کفر یا فسق اور بدعت کا فتویٰ لگانے کو تیار ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ میرے سوال کا صاف اور قطعی جواب نہیں دیتے صرف شرطی بقیه حاشیه بر حاشیه حاشیه شروع مضمون میں آپ نے لکھا ہے۔ غور کر کے سمجھ سکتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب آپ کو جواب باصواب دے چکے ہیں اور وہ جملہ یہ ہے۔ ہر چند آپ نے یہ بات بتصریح۔ الخ ایڈیٹر مولوی صاحب کی تیز فہمی ملاحظہ کے قابل ہے مولوی صاحب کے نزدیک گویا مرزا صاحب نے جواب کی شق ثانی اختیار نہیں کی باتیں خیال کہ مبادا عوام مسلمان اور اہل حدیث کا فتوی لگانے کو طیار نہ ہو جائیں مگر حیرت ہے کہ اس پر بھی ہمارے آتشیں مزاج مولوی صاحب کی زبان کی ایذا سے حضرت مرزا صاحب بچ نہ سکے ۔ مولوی صاحب نے پہلے ہی سے اس بات کو جو سائر اہل حدیث کو کبھی مرزا صاحب کے جواب کی شق ثانی کے اختیار کرنے پر سوجھتی اپنے ذہن میں شدہ ٹھان کر مرزا صاحب کے حق میں وہ فتوے جڑ دیئے اور یوں اہلحدیث کی پیٹھ پر سے ایک فرض کفایہ کا بوجھ ہلکا کر دیا آفرین ایس کا راز تو آید و مرداں چنیں کنند ۔ ایڈیٹر